ڈومسائل قانون کے بارے میں فیس بک پر پوسٹ معروف کشمیری تاجر کے خلاف مقدمہ درج

کے این ایس : سرینگر/نئے قانون ِ اقامت کے خلاف فیس بک پر پوسٹ کرنے پر معروف کشمیری تاجر کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔پولیس نے اس کی تصدیق کی ہے ۔ نئے قانون ِ اقامت کے خلاف فیس بک پر پوست کرنے پر معروف کشمیری تاجر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔اپنے فیس بک پوسٹ میں اس نے لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ غیر ریاستی باشندوں کواقامتی اسناد دیئے جانے اور جموںوکشمیر میں آباد کرنے کے خلاف متحد ہوکر لڑیں۔رپورٹس کے مطابق وہ ملائشیا میں دستکاری کے کاروبار سے منسلک ہیں۔ انہیں گزشتہ سال 4 اگست کی رات کو گرفتارکیا گیا تھا، جب جموںوکشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ کی گئی تھی ۔اس نے26جون کو اپنی فیس بک پوسٹ میں کہا ہے کہ’ ان کمیٹیوں کو یہ بھی واضح کرنا چاہئے کہ کوئی تحصیلدار یا کوئی بھی انتظامیہ جس نے کسی غیر کشمیری کو ڈومیسائل جاری کیا ہو اس کا بھی معاشرتی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ ان لوگوں کے خلاف معاشرتی بائیکاٹ بہت سخت ہونا چاہئے اور انہیں گاوں ،محلے یا قصبے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے اور کسی کو بھی ان سے یا ان کے اہلخانہ سے بات نہیں کرنی چاہئے یا ان کے ساتھ کسی بھی طرح کا کام نہیں کرنا چاہئے‘۔ایس ایس پی سرینگر نے مقدمہ درج کرنے کی تصدیق کی ہے ۔انہوں نے کہا’ہمارا ہر جگہ دائرہ اختیار ہے، ہم تمام قانونی طریقہ کار پر عمل کریں گے ، وہ کشمیر کے رہائشی ہےں اور قانون اپنا راستہ اپنائے گا‘۔مقدمہ درج کرنے پر تاجرنے اپنا ردعمل فیس بک پر ہی ظاہر کیا ۔انہوں نے سوموار کو ایک فیس بک پوسٹ میں لکھا ’مجھے معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے میرے کیس درج کیا اور میرے خلاف ایف آئی آر درج کی ،میرے وکیل اس معاملے کو دیکھیں گے ،مجھے جو سچ لگے گا میں اص پر لکھتا رہوں گا ‘۔یاد رہے کہ نئے قانون ِ اقامت کے تحت 25ہزار افراد کوسندیں دی گئیں ۔شہریت کی سند حاصل کرنے والوں میں ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ انتظامی عہدیدار، نوین کمار چوہدری بھی شامل ہیں، جنہیں یہ سند مقامی تحصیلدار نے اس بنا پر جاری کیے کہ انہوں نے انڈین ایڈمنسٹریٹیو سروس (آئی اے ایس) افسر کی حیثیت سے علاقے میں 10 سال سے زائد عرصے تک خدمات انجام دیں، جو انہیں نئے قانون اقامت کے قاعدہ 5کے تحت جموں و کشمیر کی شہریت کا اہل بناتا ہے۔نئے قانون ِاقامت نے سابقہ ریاست میں 1927 سے لاگو ’سٹیٹ سبجیکٹ لائ‘ کی جگہ لے لی ہے، جس کے تحت صرف جموں وکشمیرکے پشتنی یا حقیقی باشندے ہی ریاست میں غیر منقولہ جائیداد خرید اور بیچ سکتے تھے اور سرکاری ملازمتیں حاصل کرسکتے تھے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں