چِشول میں بھارت اور چینی فوجی کمانڈروں کےدرمیان ایک اور ملاقات پینگ گانگ جھیل کے اردگرد پہاڑیوں پر چینی فوج نے جدید ہتھیار پہنچادئے

یو این آئی : نئی دہلی/ امن کی خواہش لیکن زیادتیوں اور سرحدی دراندازیوں کی جنگی مدافعت کے جذبے کے سے گلوان وادی میں ہندستانی فوجی تعیناتی کے درمیاں آج بروز منگل چوشول میں ہندستان اور چین کے اعلیٰ فوجی کماندارمیٹنگ کر رہے ہیں۔  اس میٹنگ کا مقصد باہمی شرائط پر فوجی موجودگی میں زمانہ امن کے مطابق کمی لانے عمل کو آگے بڑھانا ہے ۔  یہXIV کور کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ہریندر سنگھ اور ساوتھ سنکیانگ ملٹری ریجن کمانڈر میجر جنرل لی لن کے درمیان تیسری ملاقات ہوگی۔ آخری دو ملاقاتیں 6 جون اور 22 جون کو چین کی طرف کے علاقے مولڈو میں ہوئی تھیں۔ آخری میٹنگ میں کور کمانڈرز فوجی تعیناتی میں کم کے علاوہ مخدوش علاقوں جیسے گلوان ، ہاٹ اسپرنگس اور پیانگونگ تسو پر بھی تبادلہ خیال کیا تھا واضح رہے کہ ہندوستانی فوج نے گلوان وادی کے علاقے میں میزائل فائر کرنے والے چھ T-90 ٹینک اور ٹاپ آف دی لائن کندھے سے چلنے والے اینٹی ٹینک میزائل سسٹم کی تعیناتی کردی ہے ۔ ادھر ایک اور خبررساںایجنسی یو پی آئی کے مطابق لداخ میں پینگ گانگ جھیل کے اردگرد پہاڑیوں پر چینی لبریشن آرمی نے پہرے بٹھا دئے اور وہاں پر جدید قسم کا اسلحہ پہنچا دیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ حقیقی کنٹرول لائن پر ہندچین افواج کے درمیان شدید کشیدگی کے باعث پینگ گانگ اور گلوان ویلی میں موبائیل سروس کو منقطع کیا گیا ہے۔ ادھر مرکز ی حکومت نے بھی لداخ میںفوج کی تعداد بڑھائی ہے اور اس سلسلے کی ایک کڑی کے تحت سرینگر سے آئے روز سینکڑوں فوجی گاڑیاں لہیہ کی طرف روانہ ہو رہی ہیں۔ادھر لداخ ہل ڈیلوپمنٹ کونسل کے سینئر رکن نے بتایا کہ لوگ ایسا پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں کہ چینی لبریشن آرمی نے اپنی سرگرمیاں تیز کیں ہیں ۔ لداخ میں چینی لبریشن آرمی کی سرگرمیاں روز بروز بڑھ رہی ہیں۔ نجی نیوز چینل انڈیا ٹوڈے نے بتایا کہ گلوان ویلی کے بعد اب چینی لبریشن آرمی کے اہلکاروں نے پینگ گانگ جھیل کے اردگرد پہاڑیوں پر چڑھائی کرنا شروع کیا ہے۔ نیوز رپورٹ کے مطابق پینگ گانگ جھیل کے اردگر دپہاڑیوں پر چینی لبریشن آرمی کی تعداد کافی بڑھا ئی گئی ہے اور وہاں پر جدید ہتھیار بھی پہنچائے جارہے ہیں۔ نیوز چینل نے یہ بھی کہا ہے کہ پینگ گانگ اور گلوان ویلی میں فی الحال موبائیل خدمات کو پوری طرح سے منقطع کیا گیا ہے جس وجہ سے پوری تفصیلات حاصل نہیں ہو پا رہی ہیں۔ لداخ ہل ڈیلوپمنٹ کونسل کے سینئر منتظم تاشی نامگیال نے نیوز چینل کے ساتھ بات چیت کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ پہلی مرتبہ چینی لبریشن آرمی کی سرگرمیاں زیادہ بڑھی ہے۔ انہوںنے کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ ہو ا ہے جب لداخ میں چینی لبریشن آرمی کی تعداد کو بڑھا یا ہے اور لوگ بھی اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ نمگیال نے بتایا کہ پچھلے کئی برسوں سے چینی حکومت نے لداخ میں اس طرح سے فوجیوں کی تعداد نہیں بڑھائی تھی جیسے کہ آج اُس نے کیا ہے۔ نیوز چینل نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ گلوان ندی میں چینی لبریشن آرمی نے تعمیراتی کام بھی شروع کئے ہیں اور وہاں پر آئے روز اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا جارہا ہے۔نمگیال نے بتایا کہ رات کے وقت لدا خ کی پہاڑیوں پر چراغاں دکھائی دیتا ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ چینی لبریشن آرمی نے اوپری پہاڑیوں پر اپنے فوجی تعینات کئے ہیں۔ ادھر بھارت کی مرکزی حکومت نے بھی لداخ میں اضافی اہلکاروں کی تعیناتی کی خاطر اقدامات اُٹھانا شرو ع کئے ہیں اور پچھلے دو تین ہفتوں سے لگاتار سرینگر لہیہ شاہراہ پر فوجی گاڑیوں کو لہیہ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ ان فوجی کانوائیوں میں نہ صرف اضافی اہلکارموجود ہوتے ہیں بلکہ گاڑیوں کے ذریعے آرٹیلری کو بھی لداخ روانہ کیا جارہا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پر ہند چینی افواج کے درمیان شدید کشیدگی کے باعث عام شہریوں کو سخت پریشانیوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔ ذرائع کے مطابق لائن آف اکچول کنٹرو ل کے نزدیک علاقوں میں موبائیل سروس کو بھی فی الحال منقطع کیا گیا ہے جس وجہ سے لوگوں کو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ مواصلاتی رابط قائم کرنے میں دقتیں پیش آرہی ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں