نسیم باغ میں مارا گیا جنگجوبیج بہاڑہ حملے میں ملوث تھا:پولیس

یو پی آئی : سرینگر/پولیس کا کہنا ہے کہ نسیم باغ حضرت بل سرینگر تصادم میں مارا گیا عسکریت پسند مقامی ہے اور اُس نے ہی بجبہاڑہ میں فورسز پر حملہ کیا تھا جس میں ایک چھ سالہ بچہ اور پیرا ملٹری فورسز کا اہلکار از جان ہوا تھا۔ پولیس ترجمان کے مطابق مہلوک عسکریت پسند سیکورٹی فورسز پر حملوں ، عام شہریوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں میں پولیس کو انتہائی مطلوب تھا۔ نسیم باغ حضرت بل سرینگر میں کل شام سیکورٹی فورسز اور عسکریت پسندوں کے مابین ہوئی جھڑپ میں ایک مقامی جنگجو جاں بحق ہوا ہے۔ پولیس ترجمان کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ مہلوک جنگجو کی شناخت اسلامک سٹیٹ جموں و کشمیر سے وابستہ مقامی جنگجو زاہد داس کے طور پر ظاہر کی گئی ہے جس پر حالیہ بجبہاڑہ حملے، جس میں ایک سی آر پی ایف ہیڈ کانسٹیبل اور ایک چھ سالہ لڑکا جاں بحق ہوئے تھے، میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ترجمان کے مطابق سری نگر میں جمعرات کو ہونے والے تصادم میں بجبہاڑہ اننت ناگ میں ایک جموں و کشمیر پولیس، ایک سی آر پی ایف اہلکار اور ایک چھ سالہ لڑکے کے قاتل زاہد داس کو ہلاک کیا گیا ہے۔ یہ کشمیر پولیس اور سی آر پی ایف کے لئے ایک بڑی کامیابی ہے۔پولیس ترجمان کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کی خاطر مہلوک عسکریت پسند کو قانونی لوازمات پورے کرنے کے بعد ہندواڑہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ ترجمان کے مطابق جاں بحق جنگجو کے نزدیکی رشتہ داروں کو ہندواڑہ میں جنگجو کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بتا دیں کہ زاہد داس 30 جون کو جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے واگہامہ بجبہاڑہ میں مسلح تصادم کی جگہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔واضح رہے کہ ضلع اننت ناگ کے بجبہاڑہ میں 26 جون کو جنگجوئوں کے سی آر پی ایف کی ایک پارٹی پر حملے میں ایک سی آر پی ایف اہلکار اور ایک کمسن بچہ از جان ہوئے تھے۔آئی جی پی نے حملے کے ایک دن بعد نامہ نگاروں کو بتایا تھا: 'ہمارے کچھ لوگوں اور عینی شاہدین نے زاہد داس نامی جنگجو کو پہچان لیا ہے جس نے بائیک پر آکر فائرنگ کی جس میں ہمارا ایک جوان بھی از جان ہوا اور ایک چھوٹا بچہ بھی ہلاک ہوا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں