بی جے پی جموں کشمیرکیلئے ریاست کا درجہ بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے - کشمیر پنڈتوں کی وادی واپسی ابھی ممکن نہیں ، وزارت داخلہ کی حالات پر گہری نگاہ کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کے بجائے نیشنل کانفرنس ، پی ڈی پی اور کانگریس رہنماگھروں میں بیٹھے ہیں : رام ماوھو

سی این آئی : سرینگر/بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھو نے کہا کہ ان کی پارٹی جموں کشمیر میں سٹیٹ ہوڈ بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے جبکہ بی جے پی کی جموں وکشمیر یونٹ کی رائے ہے کہ جب وقت موزوں ہو تو ریاست کو واپس کرنا چاہئے۔ ہم چاہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کی حیثیت سے بحال کیا جائے ۔ خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس کے ساتھ خصوصی انٹر ویو میں بی جے پی کے قومی جنرل سیکرٹری رام مادھو نے کہا کہ ان کی پارٹی جموں کشمیر میں سٹیٹ ہوڈ بحال کرنے کی حمایت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ امیت شاہ نے خود ہی UT کا درجہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ جموںکشمیر کو ریاست کا درجہ جلد ہی واپس دینے کیلئے کام ہو رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ ابھی جموں کشمیر میں اسمبلی کی تشکیل اور UT کے لئے حد بندی باقی ہے۔ انٹر ویو کے دوران وادی میں سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ حراست میں لئے گئے بیشتر رہنماوں کو رہا کردیا گیا ہے۔ مادھو نے کہا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ تمام قائدین سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لے کر انتظامیہ اور عوام کے مابین پل کی حیثیت سے کام کریں ، لیکن پی ڈی پی ، نیشنل کانفرنس ، کانگریس کے تمام بڑے قائدین اپنے گھروں کے اندر بیٹھے ہیں۔ کانگریس کے رہنماوں کو حتی کہ گرفتار نہیں کیا گیا ہے لہذا انہیں جواب دینا چاہئے کہ وہ کیوں وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لے رہے ہیں۔ اسمبلی انتخابات ہونے پر سیاسی سرگرمی اس وقت شروع ہوگی۔ "سرپنچ اجے پنڈتا کے حالیہ قتل کے بعد کشمیری پنڈتوں میں وطن واپسی کے خوف سے متعلق سوال پر مادھو نے کہا کہ وزارت داخلہ اس سارے معاملے کو دیکھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ہم وہاں سلامتی اور احترام دونوں کی ضمانت نہیں دے پائیں گے۔ کشمیری پنڈتوں کے لئے وادی میں واپس جانا ممکن نہیں ہوگا۔ صرف کالونیوں کی تشکیل ہی پنڈتوں کی واپسی کا باعث نہیں بن سکتی۔اس سوال پر کہ بی جے پی نے جموں وکشمیر میں پی ڈی پی کے ساتھ مل کر حکومت کیوں بنائی ، مادھاونے کہا کہ اگر بی جے پی نے حکومت نہیں بنائی ہوتی تو اسمبلی انتخابات دوبارہ ہونا پڑتے۔ تاہم ، PDP کے ساتھ حکومت بنانے کے کچھ فوائد اور کچھ نقصانات تھے۔ بی جے پی کی حمایت واپس لینے کے تین سال بعد حکومت گر گئی۔مادھو نے کہا کہ جموں وکشمیر سے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے بعد عوام کی طرف سے بہت کم مخالفت کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ احساس ہوچکا ہے کہ آرٹیکل 370 کی وجہ سے کشمیری رہنماوں کی ذاتی خوشحالی میں صرف اضافہ ہوا ، لیکن عوام کو فائدہ نہیں ہوا۔ اب عوام کا رویہ مثبت نظر آرہا ہے۔حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کے استعفیٰ کومادھو نے حریت کی داخلی سیاست کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ گیلانی کا استعفیٰ پچھلے 30 سالوں سے ہونے والی ان کی سیاسی غلطیوں پر پردہ نہیں اٹھا سکے گا ،مادھو نے چین کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چین کو زمینوں پر قبضہ کرنے کی پرانی عادت ہے ، لیکن مودی حکومت نے پچھلے 5 سالوں میں اس کا بھرپور جواب دیا ہے۔ آخر چین کے ساتھ سرحدی تنازعہ کا حل کیا ہے؟ اس سوال پر ، مادھو نے کہا کہ حکومت خاص طور پر دو محاذوں پر کام کر رہی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں