وزیر اعظم ہندکے لیہہ دورے پر چین کا ردِ عمل

 کوئی بھی فریق ایسا کام نہ کرے، جس سے سرحد پر حالات خراب ہوں

نیوز ایجنسیز: بیجنگ/وزیر اعظم ہند کے دورہ لہیہ پر چین کا ردعمل سامنے آیا ہے ۔ چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان جھاوو لیزیان نے کہا ہے کہ سرحد پر کوئی بھی فریق ایسا کام نہ کرے، جس سے سرحد پر حالات خراب ہو۔ ہر روز ہونے والی بریفنگ میں چین کے وزارت خارجہ کے ترجمان جھاوو لیزیان نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے درمیان سرحدی تنازعہ کو فوجی افسران بات چیت سے حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ان کا
کہناتھا کہ ایسے میں دونوں ممالک کو ایسا کوئی قدم نہیں ا ٹھانا چاہئے، جس سے سرحد پر چل رہی کشیدگی میں اضافہ ہو۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہندوستان اور چین کی افواج کے درمیان مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں گزشتہ کئی دنوں سے بڑھتی کشیدگی کے درمیان آج(جمعہ کو) وزیر اعظم ہند کا اچانک لیہہ دورے پر جانے سے چین نے اپنا ردِ عمل ظاہر کیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے لہیہ دورے کو چین کےلئے سخت پیغام تصور کیا جارہا ہے۔ مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں15 جون کی رات ہندوستان اور چین کی افواج کے درمیان ہوئے پ±رتشدد جھڑپ کے بعد سے دونوں ممالک میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان آج وزیر اعظم نریندر مودی اچانک لداخ پہنچ گئے۔ لیہہ پہنچ کر وزیر اعظم نریندر مودی نے فوج، ایئر فورس اور انڈو تبت بارڈر پولیس کے جوانوں سے بات کی۔ وزیر اعظم کے دفترکی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’فی الحال وزیر اعظم مودی نیمو کے ایک فارورڈ لوکیشن پر گئے ہیں، یہاں وہ علی الصبح ہی پہنچ گئے تھے۔ یہ جگہ 11ہزار کی اونچائی پر واقع ہے۔ یہ علاقہ سندھ کے کنارے پر اور جانسکر رینج سے گھری ہوئی ناقابل رسائی جگہ ہے۔نیمو دنیا کی سب سے اونچی اور خطرناک پوسٹ میں سے ایک مانا جاتا ہے۔ اچانک وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دورے نے ہر کسی کو حیران کردیا۔ پہلے اس دورے پر صرف چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل بپن راوت کو ہی آنا تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے میں فوجی افسران نے انہیںسرحد سے متعلق رپورٹ بھی دی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں