کووڈ۔19کا بھیانک رُخ،صورتحال گھمبیر- ’فیصلہ آپ کا ،زندگی آپ کی ‘

بے احتیاطی جان کےلئے خطرہ ،احتیاط ہی زندگی کی سلامتی حکومت ہدایات وفیصلوں پر از سر نو جائزہ لے:طبی ماہرین

کے این ایس � جے کے این ایس : سرینگر/وادی کشمیر میں کووڈ۔19نے بھیانک رُخ اختیار کیا جسکی وجہ سے نہ صرف اموات اور مثبت معاملات برق رفتاری میں اضافہ ہورہا ہے بلکہ صورتحال گھمبیر ہوتی جارہی ہے ۔مختلف اسپتالوں کے سر براہاں اور طبی معالجین نے بے احتیاطی کو جان کےلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ احتیاط ہی سلامتی ہے ۔انہوں نے انتظامیہ کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی ہدایات اور فیصلوں پر از سر نو جائزہ لے ۔ وادی کشمیر میں گزشتہ محض تین روز کے دوران کورونا مثبت معاملات میں بے تحاشہ اضافے کے نتیجے میں صورتحال انتہائی گھمبیر ہوتی جارہی ہے ۔جہاں عام لوگ اضطراب میں مبتلاءہوچکے ہیں ،وہیں طبی معالجین بھی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں ۔مختلف اسپتالوں کے سربراہاں ،کووڈ۔19نو ڈل افسران اور دیگر طبی معالجین نے کہا کہ کووڈ ۔19تیسرے اور خطرے ناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے ۔انہوں نے خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وبا اب نوجوانوں کی بھی جان لے سکتی ہے ،لہٰذا ہمیں پہلے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے ۔ان کا کہناتھا کہ کووڈ۔19کا برق رفتاری سے پھیلاؤ کے پیش نظر حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے فیصلے پر از سر نو غور کرنے کی ضرورت بھی ہے ۔کئی معالجین نے کے این ایس کیساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کووڈ ۔19کے موجودہ مرحلے میں نہ صرف بزرگ اور عمر رسیدہ شہری اس سے متاثر ہوسکتے ہیں ،بلکہ نوجوان بھی اس وبا کی زد میں آسکتے ہیں ۔سکمز کے میڈیکل سپر انٹنڈنٹ،پروفیسر فاروق جان کا کہنا ہے کہ صورتحال تیزی سے بدلرہی ہے ،زیادہ سے زیادہ لوگ حتیٰ کہ نوجوان بھی اب کورونا وائرس کے شکار ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا ’اسکی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ احتیاطی اقدامات کو سنجیدگی کیساتھ نہیں لے رہے ہیں ‘۔ ان کا کہناتھا ’صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں کئی مریض آکسیجن سپورٹ پر زندہ ہیں ،لیکن ان مریضوں کو دوسرے امراض کا بھی سامنا ہے ‘۔ انہوں نے کہا ’کوئی بھی شخص کووڈ۔19کا شکار ہوسکتا ہے ،اگر احتیاطی ہدایات وقواعد وضوابط پر عمل نہیں کیا گیا‘۔پروفیسر فاروق جان نے کہا ’اسپتال میں زیادہ تر مریض عمر رسیدہ ہیں لیکن اب نوجوان مریض بھی آرہے ہیں ‘۔انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مثبت کیسوں میں اضافے ہونے کا امکان ہیں ۔جواہر لعل نہرو میموریل اسپتال سرینگر (رعناواری اسپتال ) کی خاتون میڈیکل سپر انٹنڈنٹ ڈاکٹر تبسم کا کہنا ہے کہ پہلے اسپتال میں غیر علامتی مریضوں کو ہی داخل کیا جاتا ہے لیکن اب علامتی مریضوں کو بھی داخل کیا جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم کووڈ۔19کے تیسرے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں ،اگر لوگوں نے احتیاطی اقدامات کو سنجیدگی کیساتھ نہیں لیا ،تو صورتحال مزید خراب ہوگی ۔ میڈیکل سپر انٹنڈنٹ سکمز بمنہ ڈاکٹر شفا دیوا کا کہنا ہے کہ نوجوان کورونا پازیٹیو پارہے ہیں ،کیونکہ وہ وقت پر اپنی علامات کے بارے میں رپورٹ نہیں کرتے ،وہ تب ہی رپورٹ کرتے ہیں جب ام پر وائرس کا دبا ؤ بہت زیادہ ہوتا ہے ۔سی ڈی اسپتال میں تعینات ڈاکٹر خورشید کا کہنا ہے کہ کووڈ۔19کسی بھی صحت مند شخص کو اپنا شکار بنا سکتا ہے ۔انہوں نے کہا ’عمر مریض کی جان کے خطرے کو بڑا سکتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں آپ تندرست اور صحت مند ہیں ،آپ مرنہیں سکتے ؟۔ادھر ڈاکٹر نثار الحسن نے کہا ’کووڈ ۔19نے کشمیر میں بھیانک رُخ اختیا ہے اور صورتحال گھمبیر ہے ،لاک ڈاؤن دوبارہ ہونا چاہئے ‘۔انہوں نے کہا کہ کم سے کم دوہفتوں کےلئے فوری طور پر لاک ڈاؤن ہونا چاہئے ۔ان کا کہناتھا کہ صدر اسپتال میں30والدین آکسیجن کی تلاش میں تھے ۔ان کا کہناتھا ’زندگی آپ کی ،فیصلہ آپ کا ،لوگ بے احتیاطی کریں گے تو صورتحال مزید خراب ہوگی جبکہ موجودہ حالات میں احتیاط ہی زندگی کی سلامتی ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو اپنی ہدایات اور فیصلوں پر ازسر نو جائز ہ لینا چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں