کورونا کے 268 نئے معاملات

15فوجی ، 10سی آر پی ایف اہلکار ، 5 بینک ملازمین ، 4 حاملہ خواتین مثبت معاملات کی کل تعداد10156شفایاب مریض 5895

سرینگر/جموںوکشمیر میں سنیچر کے روز 15فوجی ، 10سی آر پی ایف اور پانچ بینک ملازمین، چار حاملہ خواتین سمیت 268افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد متاثرین کی مجموعی تعداد 10 ہزار 156ہو گئی ہے۔ اس بیچ پچاس کے قریب مریضوں کو صحت یابی کے بعد گھر جانے کی اجازت دی گئی ۔ جموںوکشمیر میں سنیچر کے روز مزید 268افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ نمائندے کے مطابق متاثرین میں 15فوجی اہلکار ، 10پیرا ملٹری فورسز ، پانچ بینک
ملاز مین شامل ہیں۔ حکام کے مطابق سنیچر کے روز جموں صوبہ میں 87جبکہ کشمیر میں 181افراد کے ٹیسٹ پازٹیو آئے ہیں۔ متاثرین میں سرینگر ضلع سے67 ،بارہ مولہ 37 کپواڑہ 37, 29راجوری ، 23کولگام ، 21جموں ، 20کٹھوعہ ، چھ اننت ناگ ، چھ سانبہ ، پانچ پلوامہ ، چار بڈگام چار ریاسی ، تین اُدھم پور ، تین پونچھ ، ایک شوپیاں ، ایک گاندربل اور ایک کشتواڑ کا ساکن ہے۔ نوڈل آفیسر ڈاکٹر جی ایچ یتو نے بتایا کہ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں سنیچر کے روز 1366نمونوں کی تشخیص ہوئی جن میں سے 64کی رپورٹ مثبت آئی ہے۔ سکمز بمنہ کے پرنسپل ڈاکٹر ریاض انتو نے بتایا کہ سنیچر کے روز لیب میں 385نمونوں کی جانچ پڑتال ہوئی جن میں سے صرف 12کی رپورٹ پازٹیو آئی ہے ۔ حکام نے بتایا کہ سنیچر کے روز پچاس کے قریب مریض صحت یاب ہوئے ہیں جنہیں گھر جانے کی اجازت دی گئی ۔ جموںوکشمیر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں روز افزاں اضافہ ہونے کے بعد اسپتالوں میں مریضوں کیلئے جگہ بھی کم پڑ گئی ہے ۔ عوامی حلقے حکومت پر زور دے رہے کہ وادی کشمیر میں پھر سے لاک ڈاون کا نفاذ عمل میں لایا جائے کیونکہ بندشوں سے ہی اس وائرس کی روکتھام میں مدد مل سکتی ہے۔ نمائندے نے بتایا کہ پوری وادی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے تاہم لوگ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کرنے سے قاصر ہے ۔ حکومت کی جانب سے پارکوں اور تفریحی مقامات کو کھولنے کے بعد ہر طرف تنقید ہو رہی ہے اور انتظامیہ پر زور دیا جا رہا ہے کہ فوری طورپر پارکوں اور تفریحی مقامات کو بند کیا جائے کیونکہ لوگوں کے ایک جگہ پر جمع ہونے سے وائرس پھیلتا جارہا ہے اور اگر حکومت نے فوری طورپر احتیاط سے کام نہیں لیا تو وادی بھر میں حالات سنگین تر ہوگی پھر اس وائرس پر قابو پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو کر رہ جائے گا۔ حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے10156 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے4092سرگرم معاملات ہیں ۔ اب تک5895اَفراد شفایاب ہوئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی تعداد169تک پہنچ گئی ،جن میں سے 153کا تعلق کشمیر   صوبہ سے اور15کاتعلق جموں صوبہ سے ہیں۔اِس دوران آج مزید109مریض صحتیاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے15اور کشمیر صوبے کے 95اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اب تک445169ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  11؍جولائی2020ء کی شام تک 435013نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اب تک311254افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں 38650اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔ اس کے علاوہ36 اَفراد کو ہسپتال قرنطین میں رکھا گیا ہے۔4092کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ38650 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق223151اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن کے مطابق سری نگر میں اب تک کورونا وائرس کے 1611معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے1075سرگرم معاملات ہیں ۔494مریض صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ42 افرادکی موت واقع ہوئی ہے۔ بارہمولہ میں اب تک کورونامریضوں کی تعداد 1288ہوئی ہیںجن میں سے 743سرگرم معاملات ہیں اور32مریضوں کی موت واقع ہوئی ہیںاور 513صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ کولگام میں987مثبت معاملات پائے گئے ہیںجن میں313سرگرم معاملات ہیںاور 656صحتیاب ہوئے ہیںاور18 کی موت واقع ہوئی ہے۔اُدھرضلع شوپیان میں 888 مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں198 سرگرم ہیں اور 674صحتیا ب ہوئے ہیںجبکہ 15کی موت واقع ہوئی ہے۔ ضلع اننت ناگ میں 781 مثبت معاملے سامنے آئے ہیںجن میں175 سرگرم ہیں۔ 592 شفایاب ہوئے ہیں اور14کی موت واقع ہوئی ہے۔ اِدھرکپواڑہ میں 746مثبت معاملات درج کئے گئے ہیں اور 264 سرگرم معاملات ہیں اور473صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ 9 کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع  پلوامہ ضلع میں کووِڈ ۔19کے 645 معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں297 سرگرم معاملات ہیں اور 343مریض صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ05 کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع بڈگام میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد اب تک 532ہوئی ہیںجن میں سے 213سرگرم ہیں اور307اَفراد صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ12 کی موت واقع ہوئی ہے ۔بانڈی پورہ میں اب تک 336مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے44سرگرم معاملات ہیں ، 289مریض صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ 03 کی موت واقع ہوئی ہے۔ گاندربل میں کل 161 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں73سرگرم معاملات ہیں اور 86 اَفراد شفایاب ہوئے ہیںجبکہ2 کی موت واقع ہوئی ہے۔اِسی طرح  جموں میں وائر س کے 473مثبت معاملات پائے گئے ہیں جن میں135سرگرم معاملات ہیں اور329صحت یاب ہوئے ہیںاور09 کی موت واقع ہوئی ہے جبکہاودھمپور ضلع میں اب تک کورونا مریضوں کی کُل تعداد 301 ہوئی ہیں جن میں سے 53معاملات سرگرم ہیں۔ 247اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے اوررام بن میں254معاملات سامنے آئے ہیںجن میں 48سرگرم معاملات ہیں اور206 شفایاب ہوئے ہیں ۔دریں اثنأ کٹھوعہ میں292مثبت معاملہ سامنے آئے ہیںجن میں 81 سرگرم معاملات ہیںاور 210اَفراد صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع سانبہ میں 224 مثبت معاملے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 86 سرگرم معاملات ہیں اور 137اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔جبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے ،اس طرح پونچھ میں142معاملے سامنے آئے ہیں جن میں 22سرگرم معاملات ہیں جبکہ119مریض شفایاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔راجوری ضلع میں کورونا کے اب تک 240مریض پائے گئے ہیںجن میں 151معاملے سرگرم ہیں اور 88مریض شفایاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ڈوڈہ میں 124 معاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے54معاملات سرگرم ہیں جبکہ68مریض پوری طرح شفایاب ہوئے ہیں اور02 مریض کی موت واقع ہوئی ہے۔ اورریاسی میں بھی57 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں18سرگرم ہیں اور39 اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔ کشتواڑ میں45 مثبت معاملے سامنے آئے ہیں جن میں20 معاملے سرگرم ہیں اور25 مریض پوری طرح سے صحتیاب ہوئے ہیں بلیٹن میںکہا گیاہے کہ یہ ترتیب اُن ضلعوں کی ہے جہاں سے مریضوں کا پتہ لگا ہے یا جہاں وہ عارضی طور پر رہائش پذیر ہے۔ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے



 کہ کووِڈ۔19سے بچائو کے لئے باقی لوگوں سے کم از کم دو میٹر کا جسمانی فاصلہ قائم کرنے اور بار بار پانی سے ہاتھ دھونے یا الکوحل پر مبنی ہینڈ سینٹائزر سے ہاتھ صاف کرنے سے انسان اس بیماری سے محفوظ رہ سکتا ہے۔عوامی مقامات اور کام کی جگہوں پر سماجی دوری کے لئے ایک اقدام کے طور پر چہرے کا احاطہ کرنا لازمی ہے۔بلیٹن میں مزید بتایا گیا کہ کووِڈ۔19 کی ابتدا میں ہی تشخیص سے یہ وبامزید پھیلنے روکی جاسکتی ہے۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ذمہ داری کا ثبوت دے کر جاری ایڈوائزری پر سختی سے کاربندرہیں اور کووِڈ۔19بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر اسے نہ چھپائیں کیوں کہ اس سے ایسے افراد کے افراد خانہ کے ساتھ ساتھ اُن کی اپنی زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔بخار ، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف کی علامات ظاہر ہوتے ہی کووِڈ۔19 ہیلپ لائینوں پر رابطہ قائم کر کے طبی مشورہ حاصل کی جاسکتی ہے۔دریں اثنا میڈیا بلیٹن میں جاری ایڈ وائزری میں کہا گیا ہے کہ کووِڈ۔19 ایک اِنتہائی پھیلنے والی بیماری ہے جو کسی کو بھی اپنی چپیٹ میں لے سکتی ہے اور اس سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وائرس سے دور رہ جائے۔ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بیماری سے بچنے کے لئے گھروں میں رہیں اور سماجی دُوری پر عمل کریں۔ذاتی صفائی ستھرائی کے حوالے سے ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بار بار صابن اور پانی سے ہاتھ دھوئیں اور کھانسی چھینکتے وقت اپنا منھ ڈھانپ لیں۔ایڈ وائزر ی میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی کے ایسے افراد کے رابطے میں نہ آئیں جو بخار یا کھانسی میں مبتلا ہو اور اگر کوئی بھی شخص بخار ، کھانسی میں مبتلا ہو اور اُسے سانس لینے میں مشکل آتی ہوتو وہ طبی صلاح و مشور ہ لیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کووِڈ ۔19ہیلپ لائین نمبرات پر رابطہ قائم کرسکتے ہیں تاکہ انہیں ضرورت پڑنے پر صحیح طبی مشورہ دیا جاسکے۔دریں اثنا لوگ کسی بھی ایمرجنسی کے دوران چوبیس گھنٹے کام کرنے والی مفت ایمبولنس خدمات سے اپنی دہلیز پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اس ایمبولنس خدمت کا ٹول فری نمبر ہے 108 ۔حاملہ خواتین اور بیمار بچے ٹول فری نمبر 102 پر کال کر کے مفت ایمبونس خدمات سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔ لوگ عام قومی سطح کے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 1075 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ 0191-2549676 ( جموں کشمیر کیلئے ) ،,0191-2674444,0191-2674115 0191-2520982 ( صوبہ جموں ) ، 0194-2440283 اور 0194-2430581 ( صوبہ کشمیر ) کیلئے قائم کئے گئے ہیں اور لوگ نوول کوروائرس(کووِڈ۔19)سے متعلق جانکاری ان نمبرات پر حاصل کرسکتے ہیں۔لوگوں سے کہا کیا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سرکار کی جانب سے فراہم کی جانے والی جانکاری پر ہی بھروسہ کریں۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ نہ افواہیں پھیلائیں اور نہ اُن پر کان دھریں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں