جموں وکشمیر میں کورونا کی قہرانگیزی 103دنوں میں100اور15دنوں میں107اموات

 اموات کی تعدادبڑھنے کی کئی وجوہات مہلک امراض میں مبتلاءمریضوں کوبروقت طبی سہولیات کامیسر نہ ہونا ایک وجہ:طبی ماہرین

جے کے این ایس : سرینگر/جہاںتک جموں وکشمیر میں کوروناوائرس میں مبتلاءہونے والے افراد کے فوت ہونے کی رفتار کاتعلق ہے توجموں وکشمیر میں پہلی100اموات 103دنوں کے دوران ہوئیں جبکہ اس کے بعدہونے والے 107ہلاکتیں یااموات محض15دنوں میں ہوئیں ۔طبی ماہرین کامانناہے کہ کشمیر میں زیادہ تعداد میں ہونے والی اموات کی کئی وجوہات ہیں ،جن میں ایک بڑی وجہ مختلف موزی امراض میں مبتلاءبیماروں کودرکار معقول اوربروقت طبی سہولیات کامیسر نہ ہونا ہے ۔ایک سینئر ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایاکہ کوروناوائرس سے پیداہونے والی ہنگامہ خیز صورتحال نے دنیا اورملک کے بیشتر علاقوں کی طرح ہی کشمیر میں بھی پورے صحت نظام یاشعبہ طب کودرہم برہم کردیا ۔انہوںنے کہاکہ کینسر ،زیابطیس ،ہائی بلڈ پریشر اوردیگر مہلک امراض میں مبتلاءمریض ہفتہ وار یاہرپندرواڑے یاپھرہرمہینے میں کم ازکم ایک مرتبہ اپناطبی معائنہ کراتے تھے ،لیکن بیشتر اہم اوربڑے اسپتالوں کوکووڈ 19مراکز میں تبدیل کئے جانے کے بعدایسے مریضوں کی صحت مزیدبگڑتی چلی گئی ۔ایک اورڈاکٹرکاکہناتھاکہ کوروناوائرس کوپھیلنے سے روکنے کیلئے اُٹھائے گئے سخت ترین اقدامات یاعائد کی جانے والی بندشوں کے نتیجے میں ڈاکٹروں کے نجی کلینک اورنجی اسپتال بھی بندہوگئے ۔انہوں نے کہاکہ کشمیر میں کوروناوائرس پھوٹ پڑنے کے بعدمنگل کی شام تک جو177افراد فوت ہوئے ہیں ،اُن میں سے50فیصد سے زیادہ ایسے بزرگ اورعلیل افراد ہیں ،جو کینسر ،زیابطیس ،ہائی بلڈ پریشر اوردیگر مہلک امراض میں مبتلاءتھے اوربندشوں وپابندیوں کی وجہ سے اُن کاوقتاًفوقتاً طبی معائنہ نہیں کرایاجاسکا۔ایک اورسینئرمعالج کاکہناتھاکہ جن فوت شدہ اافراد کوکوروناوائرس کے کھاتے میں ڈالاگیا،اُن کے فوت ہونے کی وجہ صرف کورونانہیں ہے بلکہ وہ پہلے سے ہی مختلف موزی امراض میں مبتلاءتھے اوربروقت طبی سہولیات بہم نہ ہونے کے باعث ایسے مریضوں کی صحت بگڑ گئی اوروہ جسمانی طورپر اتنے لاغر ہوگئے کہ کوروناوائرس نے آسانی کیساتھ اُنھیں اپنی لپیٹ میں لے لیا۔مذکورہ ڈاکٹر کاساتھ ہی کہناتھاکہ مسلسل بیمار پڑے رہنے کی وجہ سے ایسے مریضوں کی قوت مدافعت چونکہ کمزور پڑگئی ،اسلئے وہ کوروناوائرس کامقابلہ نہیں کرپائے اوردم توڑ بیٹھے ۔ڈاکٹروں کامانناہے کہ اگر کینسر ،زیابطیس ،ہائی بلڈ پریشر اوردیگر مہلک امراض میں مبتلاءکو درکار طبی سہولیات میں بہتری لائی جائے گی تواموات کی موجودہ رفتار یاشرح میں کافی کمی لائی جاسکتی ہے ۔جہاں تک مہلک اوائرس سے ہونے والی اموات کے معاملے میں کشمیر کی حصہ داری 91فیصد اورجموں صوبہ کی حصہ داری محض9فیصد ہے ۔کیونکہ 14جولائی بروزمنگل کی شام کل فوت ہوئے195افراد میں سے177اموات کشمیر وادی اور18ہلاکتیں جموں صوبے میںرونماہوئیں۔جموں وکشمیر میں اس مہلک وائرس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد195تک پہنچ گئی ،جن میں سے177کی موت کشمیرمیں واقعہ ہوئی اورباقی 18افراد جموں میں چل بسے ۔کوروناسے ہونے والی اموات کے معاملے میں سری نگر سرفہرست ہے کیونکہ یہاں ابتک46افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔37اموات کے ساتھ ضلع بارہمولہ دوسرے اور22ہلاکتوں کیساتھ جنوبی ضلع کولگام تیسرے نمبر پر ہے جبکہ اسکے علاوہ شوپیان میں 17،اننت ناگ میں 15،بڈگام میں14،جموں وکپوارہ اضلاع میں گیارہ گیارہ،پلوامہ ضلع میں6،بانڈی پورہ میں 3،گاندربل ضلع میں 4،ضلع ڈوڈہ میں 2اورپونچھ ،راجوری،اودھم پور اورکٹھوعہ اضلاع میں کورونا وائرس سے ایک ایک شخص کی موت واقعہ ہوچکی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں