پروفیسر سوز کی نظربند ی معمہ بن گئی کہا میری شہری آزادی سلب کی جارہی ہے

 یو این آئی : سرینگر/جہاں ایک طرف سینئر کانگریس لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوز کی نظربندی سے انتظامیہ انکاری ہے وہیں جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں موصوف لیڈر کو نظر بند دیکھا جا سکتا ہے۔بتادیں کہ عدالت عظمیٰ نے بدھ کے روز سیف الدین سوز کی اہلیہ ممتاز النسا کی طرف سے دائر ایک عرضی کو منسوخ کیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں غیر قانونی طور پر نظر بند رکھا گیا ہے۔جمعرات کو وائرل ہونے والے ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ پروفیسر سوز اپنی رہائش گاہ کے اندر ہیں اور باہر خار دار تار بچھی ہوئی ہے وہ دیوار کے پاس آکر باہر کھڑے بظاہر نامہ نگاروں کے ساتھ اندر سے ہی بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن پولیس اہلکار انہیں میڈیا کے ساتھ بات کرنے سے روکتے ہیں۔ویڈیو میں سوز کو یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے: 'حکومت نے سپریم کورٹ میں کہا کہ میں آزاد ہوں لیکن یہاں یہ لوگ نہیں مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اوپر سے آرڈرس ہیں، میں نے کورٹ جانے کا فیصلہ لیا ہے، سپریم کورٹ کے سامنے جھوٹ بولا جارہا ہے'۔اسی اثنا میں سیول کپڑوں میں ملبوس پولیس کے ایک افسر آتے ہیں اور موصوف لیڈر کو زبردستی اندر لے جاتے ہیں، اندر سے یہ سنا جاسکتا ہے کہ سوز انہیں کہتے ہیں کہ 'ہاتھ مت لگاؤ'۔موصوف پولیس افسر سنتری کو بھی آواز دیتے ہیں کہ ان لوگوں (میڈیا والوں) کو بھگاؤ جس کے بعد سنتری میڈیا والے سے کہتے ہیں کہ آپ یہاں سے چلے جائو۔ قبل ازیں پروفیسر سوز نے اپنے ایک بیان میں کہا: 'مجھے 5 اگست 2019 سے گھر میں نظر بند رکھا گیا اور اس دوران میں کسی بھی وقت اپنے گھر سے باہر نہ جا سکا۔ حکومت نے اس دوران میرے کہنے کے باوجود مجھے کوئی سرکاری حکمنامہ نہیں دکھایا جس کے تحت مجھے نظر بند رکھا گیا تھا!'اس میں کہا گیا ہے: 'اب جبکہ حکومت کو سپریم کورٹ کا سامنا ہوا، تو اْس نے جھوٹ کا سہارا لے کر یہ غلط دعویٰ کیا ہے کہ مجھے کسی موقع پر نہ تو گھر میں نظر بند رکھا گیا اور نہ ہی مجھ پر کوئی پابندی لگائی گئی ہے! یہ سراسر بہتان تراشی ہے اور حقیقت یہ ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد مجھے کبھی بھی گھر سے باہر نہیں جانے دیا گیا'۔پروفیسر سوز تاہم اپنے بیان میں کہتے ہیں: 'البتہ میں اس دوران دو بار صحت کے سلسلے میں دہلی گیا اور دو بار میں اپنی بیمار بہن کی عیادت کیلئے گھر سے باہر گیا اور ان مواقع پر مجھ کو جموں وکشمیر حکومت سے اجازت لینا پڑی تھی!'وہ مزید کہتے ہیں: 'میں جھوٹ، بہتان تراشی اور میری شہری آزادی کو سلب کرنے کے لئے حکومت کے خلاف عدالت میں جانے والا ہوں تاکہ حکومت کی اس غیر آئینی کاروائی کو اچھی طرح عوام کے سامنے لایا جا سکے!'یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں