سا ل 1868میں بھی لوگوں نے عید گھروں میں ہی منائی اُس برس بھی وبائی بیماری سے پوری وادی متاثر ہوئی تھی

سی این آئی : سرینگر/عالمی وبائی بیماری کے چلتے عیدالاضحی کی تقریب نے سال 1868کی یادیں تازہ کر د دیں ، کیونکہ تاریخ دانوںکا کہنا ہے کہ اس سال بھی وبائی بیماری کے باعث لوگوں نے عید گھروں میں رہ کر سادگی سے منائی ۔ دنیا بھر کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر میں بھی کورنا وائرس کی قہر سامانیوں کے بیچ عید الاضحی کی تقریب سنیچروار کو منائی جا رہی ہے ۔ تاہم کورنا وبائی بیماری کے باعث امسال عید الاضحی کی تقریب انتہائی سادگی سے انجام دی جائے گی جبکہ لوگ گھروں میںہی رہ کر عید کی تقریبات انجام دیںگے کیونکہ انتظامیہ نے پہلے ہی واضح کر دیا ہے کہ وادی کشمیر میں عید کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔ چونکہ امسال وبائی بیماری کے چلتے عید کی تقریبات نے سال 1868کی تادیں تازہ کر دی ہیں ۔ کیونکہ تاریخ دانوںکا کہنا ہے کہ اس وہاں بھی اسی طرح کی وبائی صورتحال تھی جس دوران لوگوں نے گھروں میں رہ کر ہی عید منائی ۔ معروف تاریخ دان ظریف احمد ظریف نے ایک انگریزی روزنامہ سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ وادی کشمیر میں اس ی طرح کی وبائی صورتحال سال 1868اور 1918میں بھی دیکھنے کو ملی اور ان سالوں کے دوران بھی وادی کشمیر کے لوگوںنے عید کے تہوار گھروں میں ہی رہ کر منائے ۔ انہوںنے کہا کہ ان سالوں میں بھی وبائی صورتحال دیکھنے کو ملی تھی جس دوران لوگوں کو گھروں میںکافی وقت تک رہنا پڑا ۔ انہوں نے بتایا کہ سال 1868میںبھی عالمی وبائی بیماری نے جموںکشمیر کو اپنی لپیٹ میںلیا تھا جس دوران عید کا تہوار لوگوںنے گھروں میںہی منایا ۔ ایک اور تاریخ دان نے بتایا کہ کورنا وائرس کی طرح سے آج سے صدی قبل ایک وائر س نمودار ہوا تھا جس نے پورے جموںکشمیر کو اپنی لپیٹ میںلیاتھا اور ویسی ہی موجود ہ صورتحال آج جموںکشمیر میں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ خیال رہے کہ جموںکشمیر کے ساتھ ساتھ پورے عالم دنیا میں کورنا وائرس کی لہر جاری ہے جس کے بعد لاک ڈاؤن کے چلتے آبادی گھروں میںہی محصور ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں