کورونا پر نئی تحقیق نے دی کچھ راحت 9 دن بعد مریض سے انفیکشن پھیلنے کا خطرہ نہیں!

نیوز ایجنسیز: سرینگر/ پوری دنیا میں کورونا وبا نے اپنا قہر جاری رکھا ہوا ہے۔ اس پر قابو پانے کے لیے لگاتار کوششیں ہو رہی ہیں اور تحقیقوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اس درمیان کورونا پر ہوئی ایک نئی تحقیق نے کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ برطانیہ میں ہوئی اس تحقیق کے دوران پتہ چلا ہے کہ کورونا وائرس کا مریض 9 دنوں کے بعد انفیکشن نہیں پھیلا سکتا۔ گویا کہ اگر کسی کو کورونا ہوا ہے تو اس سے صرف 9دن تک ہی انفیکشن کا خطرہ ہے۔ یہ انکشاف برطانیہ میں 79 ریسرچ کے بعد ہوا ہے اور یقیناً یہ اس بحرانی ماحول میں کچھ راحت دینے والی خبر ہے۔اس تحقیق کے تعلق سے خبر رساں ادارہ رائٹرس کا کہنا ہے کہ 9 دن بعد وائرس جسم میں موجود تو رہتا ہے لیکن اس کا پھیلاونہیں ہوتا۔ 9 دن بعد کورونا وائرس کا کان، اعصابی نظام اور دل پر اثر بنا رہتا ہے لیکن یہ ایک طریقےسے بے اثر ہو جاتا ہے۔ گویا کہ اس میں قریب رہنے والے دیگر افراد میں پھیلنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ تحقیق میں اس بات کا بھی پتہ چلا کہ کورونا مریض جب انفیکشن کی زد میں آتا ہے تو اس کے 17 سے 83 دنوں کے درمیان وائرس مریض کے گلے میں پہنچ جاتا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اسپتال میں مریض کو جلد ڈسچارج کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے اور میڈیکل سہولیات ملنے سے زیادہ لوگوں کو فائدہ ہو سکے گا۔اس تحقیق میں شامل سائنسداں موگے کیوک اور انٹونیو ہو کا کہنا ہے کہ انفیکشن ہونے کے پہلے ہفتے میں مریض کے اندر علامات زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جب تک ان کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے، اس وقت تک وہ انفیکشن کے سب سے برے دور کو پار کر چکے ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ اس لیے جیسے ہی آپ کو پتہ چلے کہ آپ انفیکشن کی زد میں ہو، تو فوراً ہی آئسولیٹ ہو جانا چاہیے۔ بغیر علامت والے لوگ بھی انفیکشن ہونے کے فوراً بعد پھیلاوے معاملے میں سب سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں