پیپلز کانفرنس کے چیرمین سجاد لون کی خانہ نظربندی ختم میراجیل کاتجربہ نفسیاتی طور پر کٹھن تھا

یو این آئی : سرینگر/  جموں و کمشیر انتظامیہ نے جمعے کے روز پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون کی خانہ نظر بندی ختم کردی ہے۔بتادیں کہ مرکزی حکومت کے سال گذشتہ کے پانچ اگست کے فیصلوں کے بعد لون کو حراست میں لیا گیا تھا۔ مولانا آزاد روڈ پر واقع ایم ایل اے ہوسٹل میں چھ ماہ تک بند رکھنے کے بعد انہیں ماہ فروری میں چرچ لین میں واقع سرکاری رہائش گاہ منتقل کیا گیا تھا۔سجاد لون نے رہائی کا پروانہ حاصل کرنے کے فوراً بعد اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: 'آخر کار پانچ دن کم ایک سال کے بعد مجھے سرکاری طور پر مطلع کیا گیا کہ میں اب آزاد ہوں۔ بہت کچھ بدل گیا اور میں بھی بدل گیا ہوں۔ جیل میرے لئے کوئی نیا تجربہ نہیں تھا۔ میرے پہلے جیل تجرنے کافی سخت تھے جن میں سخت جسمانی اذیتوں کو جھیلنا پڑا تھا لیکن یہ تجربہ نفسیاتی طور پر کٹھن تھا، بلا شبہ شیئر کرنے کے لئے بہت کچھ ہے'۔دریں اثنا نیشنل کانفرنس کے نائب صدر و سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سجاد لون کی رہائی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے: 'یہ سن کر خوشی ہوئی کہ سجان لون کو غیر قانونی خانہ نظر بندی سے رہا کیا گیا۔ امید کرتا ہوں کہ دیگر لیڈروں، جو اسی طرح غیر قانونی طور پر نظر بند ہیں، کو بغیر کسی تاخیر کے رہا کیا جائے گا'۔قابل ذکر ہے کہ سجاد لون پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کے دوران کابینی وزیر رہ چکے ہیں تاہم دفعہ 370 اور 35 اے کی تنسیخ کی مخالفت کی پاداش میں انہیں اپنی پارٹی کے دیگر بعض لیڈروں کے ہمراہ گرفتار کیا گیا تھا۔سجاد لون خود کو بی جے پی کا دوست سمجھتے تھے اور انہوں وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے بڑے بھائی سے بھی خطاب کیا تھا۔علیحدگی پسند لیڈر مرحوم عبدالغنی لون کے بیٹے سجاد لون نے علاحدگی پسند کیمپ میں بھی مختصر عرصہ گذارا ہے لیکن بعد ازاں اختلافات کی وجہ سے مین اسٹریم سیاست جوائن کی۔واضح رہے کہ انتظامیہ نے سال رواں کے ماہ جنوری میں 13 لیڈروں کو رہا کیا تھا جبکہ سال گذشتہ کے ماہ دسمبر میں پانچ لیڈروں کی نظر بندی ختم کر دی گئی تھی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں