حکومت مخالف کارروائیوں کے مرتکب ملازمین برطرف ہونگے

یو پی آئی : سرینگر/ جموںوکشمیر انتظامیہ نے ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث پائے جانے کی صورت میں پولیس اہلکاروں /ملازمین کی خدمات سے برخاستگی کے معاملات کی جانچ پڑتال اور سفارش کیلئے چیف سیکریٹری کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ بتادیںکہ مرکزی وزیر داخلہ نے تین روز قبل ہی 44آفیسران پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی تھی جنہیں عسکریت پسندوں کےساتھ بلواسط یا بلاواسط طورپر روابط رکھنے والے افراد کی جائیداد ضبط کرنے کے اختیارات دئے گئے ۔مرکزی وزارت داخلہ کی جانب سے 44سینئر آفیسران کی کمیٹی تشکیل دینے کے بعد اب جموںوکشمیر انتظامیہ نے بھی ملک دشمن کارروائیوں میں ملوث پائے جانے کی صورت میں پولیس اہلکاروں اور دیگر ملازمین کی خدمات سے برخاستگی کے معاملات کی جانچ پڑتال اور سفارش کیلئے چیف سیکریٹری بی وی آر سبرامنیم کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں کی حمایت ، عسکریت پسندی کو پناہ دینا ، ان اقدامات کی حمایت کرنا ، ریاست کی سالمیت اور سالمتی کیلئے خطرہ بننے جیسے معاملات میں ملوث ملازمین کے خلاف اب سخت کارروائی ہوگی۔ ایک عہدیدار کے مطابق عسکریت پسندی کی حمایت ، عسکریت پسندی کو پناہ دینا ، ان کے اقدامات کی حمایت کرنا ، ریاست کی سالمیت اور سلامتی کے لئے خطرہ بننے جیسے معاملات میں ملوث ملازمین کے خلاف کارروائی ہوگی۔اس سلسلے میں چیف سکریٹری کی سربراہی میں کمیٹی میں انتظامی سیکریٹری داخلہ ، ڈائریکٹر جنرل پولیس ، انتظامی سیکریٹری جی اے ڈی ، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل پولیس ، سی آئی ڈی اور انتظامی سیکریٹری محکمہ قانون ، انصاف و پارلیمانی امور کوبطورممبر شامل ہیں۔ ہندوستان کے آئین کے دفعہ311 (2) (سی) کے تحت ریاست کی سالمیت کے تحت مقدمات کی جانچ اور سفارش کی جائے گی۔اس طرح کی اطلاعات موصول ہونے پر محکمہ داخلہ کو کیس کی جانچ پڑتال کرنی ہوگی۔جی اے ڈی کے مطابق ”اس طرح کے معاملات میں سفارشات کومعہ ثبوت جس میں تفتیشی رپورٹ کی کاپی اور ریاست کے تحفظ کے مفاد میں تحقیقات کے انعقاد کے جواز کے ثبوت شامل ہوسکتے ہیں“۔محکمہ داخلہ کو ہر کیس کمیٹی کے سامنے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل سی آئی ڈی کی سفارشات کے ساتھ رکھنا ہوگا۔حکمنامہ کے مطابق”کمیٹی کی سفارشات پر انتظامی سکریٹری داخلہ کے ذریعہ دستور ہند کے دفعہ 311 (2) (سی) کی اصطلاح میں مجاز اتھارٹی کے احکامات کے لئے کارروائی کی جانی چاہئے “۔جی اے ڈی نے تمام محکموں کو ایک حکم کے ذریعہ مشورہ دیا ہے کہ سرکاری ملازم کی معطلی کی مدت کا فیصلہ کرنے سے پہلے محکمہ داخلہ سے صلاح لیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں