ایک کمانڈر اور دیگر آئی ای ڈی ماہر جنگجو، فوج کے راڈار پر ،80غیرملکی جنگجووادی میں سرگر، شمالی کشمیر کے فوجی سربراہ کا بیان

ریاض نائیکوکی ہلاکت  جنگجووں کےلئے بڑا دھچکا

الفا نیوز سروس : سرینگر/ شمال وجنوب میں 80غیر ملکی جنگجو سرگرم ہیں اور آئی ای ڈی ماہرین سمیت جنگجو کمانڈرسیف اللہ فوج کی راڈار پر ہیں ، اس دوران پاکستان درندازی کو یقینی بنانے کےلے سیز فائر کی خلاف ورزی میں مصروف ہے ۔ ریاض نائیکو کی ہلاکت جنگجووں کےلئے بڑا دھچکا تھی اور اب جنگجو پھر سنبھلنے کی کوششوںمیں لگ چکے ہیں۔جنوبی کشمیر کے بعد اب شمالی کشمیر میں کامیاب آپریشن جاری رہیں گے ۔ شمالی کشمیر کے فوج کے کمانڈر لیفٹنٹ کمانڈر بی ایس راجیو نے آج خبردار کیا ہے کہ جنگجو آسان اہداف کو نشانہ بنارہے ہیںجس کےلئے ہم کوششٰن کررہے ہیںکہ جنگجو اپنی کاروائیوں میں کامیاب نہ ہوں ، ایک انٹرویو کے دوارن انہوںنے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جنوبی کشمیر کے بجائے اب شمالی کشمیر میں جنگجو سرگرم ہورہے ہیں اور اس وقت اسی سے نوے کے قریب مقامی جنگجو بھی وادی میں سرگرم ہیں۔انہوںنے کہاکہ جنوبی کشمیر میں ہم نے کافی دباو بنایا ہے جس کی وجہ سے جنگجو بوکھلاہٹ کے شکار ہوئے ہیںاور اب وہ شمالی کشمیر میںاپنی کاروائیاں شروع کر رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ غیر ملکی جنگجو بھی شمالی اور جنوبی کشمیر میں سرگرم ہیں اور کل ملا کر اب اسی کے قریب غیر ملکی جنگجو ریاست میں سرگرم ہیں جو مقامی جنگجووںکو تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ فی الوقت جموںوکشمیر میں حالات کنٹرول میں ہیںا ور جنگجووں پر دباو برقرار رہےگا ،انہوںنے مزید کہا کہ عوام اور فوج کے درمیان رشتہ بنانے کی پوری پورہ کوشش کی جارہی ہے جس کے مثبت اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔ اانہوںنے کہاکہ ہمار فی الوقت یہ پروگرام ہے کہ کسی بھی سطح پر اجتماعی تباہی نہ ہو اور آپریشن مختصر اور کارگر ہوں کیونکہ اس سلسلے میں ہم عوام لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش ریں گے ، ان کا کہنا تھا کہ جنگجووں کی حکمت عملی بھی بدلتی جارہی ہے جس کو دیکھتے ہوئے وہ کبھی جنوبی کشمیر تو کبھی شمالی کشمیر بھی ہیں، الفا نیوز سروس کے مطابق انہوںنے کہاکہ سرحد پار سے جاری دراندازی پر بھی نگاہ رکھی جارہی ہیے ۔ ایک سوال کے جواب میں شمالی کمان کے فوجی سربراہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ پاکستان دراندازی کو یقینی بنانے کےلئے سرحد پار سے گولہ باری کر رہا ہے اور جس وقت گولہ باری ہماری پکٹوںپر کی جاتی ہے تو کچھ وقت کےلئے ہمارا گرڈ کمزور پڑ جاتا ہے اور جنگجو اسی میں اس پار آجاتے ہیں،لیکن جو جنگجو بھی دراندازی کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ان کو جنگجو مخالف آپریشنوںمیں ہی ختم کیا جاتا ہے ۔انہوںنے مزید کہا جنگجو روکنے کے لئے تمام کوششین جارہیں اور دراندازی کوناکام بنانے کےلئے ہر سطح پر جدید ٹیکنالوجی عمل میں لائی جارہی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاض نائیکو کی ہلاکت جنگجووں کےلئے ایک بڑا دھچکا تھا کیونکہ وہ بڑ سرگرم جنگجو رہا ہے جو کافی وقت میدان میں رہا اور اس نے کئی ایک ذرائع بھی قائم کئے تھے جبکہ فائنسانس کے حوالے سے بھی وہ کافی ماہر رہا ہے لیکن اس کی ہلاکت کے بعد وہ جیسے بکھر گے ہیں اور اب جنگجو سنبھلنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابھی بھی کئی ایک جنگجو کمانڈر اور غیر ملکی جنگجو ہمارے راڈار پر ہیں جن میںکئی آئی ای ڈی ماہر اور سیف اللہ شامل ہیں ،انہوںنے کہا کہ جنگجووں کےخلاف آپریشن جاری رہیں گے ۔ مقامی جنگجوئیت میں کمی کا اعتراف کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ جب سے یہاں فوج نے جنگجو مخالف آپریشن شروع کئے ہیں تب سے ہر گذرنے والے سال کے ساتھ جنگجووں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے ور مقامی ملی ٹینسی میں کمی واقع ہورہی ہے ۔ ان کاکہنا تھا کہ ہمیں بھی مقامی نوجوانوں کو مارنے میں کوئی خوشی نہیں ہوتی ہے بلکہ ہم ان بھٹکے ہوئے نوجوانوںکوراہ راست پر لانے کےلئے موقعہ بھی فراہم کرتے ہیں۔ تاہم انہوںنے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں جو پڑھائی کرنے کشمیری نوجوان گئے ہیں ، فوج کو یہ خبر ملی ہے کہ پاکستان انہیں بھی کنٹرول لائن کے ذریعے یہاں بھیجنے کی کوشش کررہا ہے اور ایسے میں کنٹرول لائن پر لانچنگ پیڈ متحرک کر دیئے ہیں جن پر جنگجووں کی بڑھ تعداد اس پار آنے کی تاک میں بیٹھی ہوئی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ان نوجوانوںپر بھی نظر بنائے رکھے ہیں جو پاکستان پڑھائی کے سلسلے میں گئے ہیں۔انہوںنے مزید کہاکہ آئی ای ڈی دھماکے جنگجووں کی ایک حکمت عملی ہے اور اس کےلئے ماہر جنگجو بھی سرگرم رہے ہیں جن میں سے کئی ایک کو مار گرایا گیا ہے جبکہ کئی ایک ابھی بھی سرگرم ہیں لہذا فوج اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کررہی ہے کہ سرحد پار سے آئی ای ڈی کےلئے میٹریل پہنچ ہی نہ پائے اور یہاں بھی اس طرح کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنایا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ حالات کو بہتر بنانے کےلئے فوج ،فورسز اور پولیس ہر ممکن سطح پر تال میل بنائے رکھے ہوئے ہیںجس کے اچھے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں