کورونا سے15جاں بحق، 463پازٹیو - کشمیر کے اطراف واکناف میں کوروناوائرس کی قہر سامانیاں جاری,

,

کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد465۔کشمیر میں 431اور جموں میں 34سرینگر میں 150اموات - وائرس سے مبتلا ہونے والوں کی کل تعداد24390تک پہنچ گئی ،اب تک 16667مریض شفایا ب
سی این آئی � جے کے این ایس : سرینگر/جموں کشمیر میں مہلک وبائی بیماری کورنا وائرس کی قہر سامانیوں کے بیچ سنیچروار کو مزید15 افراد کی موت کے ساتھ ہی مہلوکین کی تعداد465تک پہنچ گئی ۔ادھر جموں کشمیر میں سنیچروار کو مزید 463معاملات مثبت سامنے آئیں جبکہ 449افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں ۔ ادھر سرینگر مسلسل مثبت کیسوں اور اموات میں سر فہرست ہے اور سنیچروار کو بھی سرینگر میں 178افراد کے ٹیسٹ مثبت آئیں ۔جس کے ساتھ ہی سرینگر میں مثبت معاملات کی تعداد 6ہزار تک پہنچ گئی ۔ جموں کشمیر میں کورنا وائرس کے کیسوں میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ہی اضافہ دیکھنے کو ملا رہا ہے جبکہ اموات کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے اورسنیچروار کو مزید 15 مریضوں کی موت واقع ہوئی جس کے ساتھ ہی جموں کشمیر میں ہلاکتوں کی تعداد465تک پہنچ گئی ہے۔ حکام کے مطابق جموں کشمیر سنیچروار کے روز 15 ہلاکتیں ریکارڈ کی گی۔حکام کے مطابق15افراد آج از جان ہوگئے ،ان میںسوگام لولاب 55سالہ خاتون، کیموہ کولگام 60سالہ خاتون ، بیج بہاڑہ کی 70سال کی خاتون مالو پورہ پلوامہ کی ایک55سالہ خاتون،گریز کا58سالہ شخص ،پنزگام کپوارہ کے ایک60سالہ شہری،نٹی پورہ کی ایک50سالہ خاتون،زالورہ سوپور50سالہ شخص اور ہندوارہ کے ایک50سالہ شہری ۔ سرینگر کی 85سالہ خاتون، بارہمولہ 65سالہ مرد، ہندوارہ 70سالہ شخص کی اموات شامل ہیں۔کورونا وائرس سے ابھی تک سب سے  زیادہ 149اموات سرینگر میں ہوئی ہیں۔ اس کے بعد ضلع بارہمولہ کا نمبر آتا ہے جہاں 79افراد کورونا سے از جان ہوگئے۔بڈگام ضلع میں34،اننت ناگ میں32،کولگام میں30،پلوامہ میں29،شوپیان میں24 اورکپوارہ ضلع میں26 اموات ہوئی ہیں۔حکام کے مطابق جموں کشمیر میں سنیچروارکو مزید15 فراد کورونا وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہوگئے۔اس طرح کورونا ہلاکتوں میں تشویشناک اضافہ جاری ہے اور ان کی مجموعی تعداد465ک پہنچ گئی ہے۔ادھر جموں کشمیر میں کیسوں میں اضافہ اور اموات کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں لوگو ں میں خوف و دہشت کی لہر پائی جا رہی ہے ۔ادھر جموں کشمیر میں سنیچروار کو مزید 463معاملات مثبت سامنے آئیں جبکہ 449افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں ۔ ادھر سرینگر مسلسل مثبت کیسوں اور اموات میں سر فہرست ہے اور سنیچروار کو بھی سرینگر میں 178افراد کے ٹیسٹ مثبت آئیں ۔جس کے ساتھ ہی سرینگر میں مثبت معاملات کی تعداد 6ہزار تک پہنچ گئی جبکہ اس کے بعد دو ہزار کے ساتھ بارہمولہ کا دوسرا نمبر ہے ۔ حکومت کی طرف سے جاری کئے گئے روزانہ میڈیا بلیٹن میں بتایا گیا ہے کہ نوول کورونا وائرس کے24390معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے7264 سرگرم معاملات ہیں ۔ اَب تک16667اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں ۔جموں وکشمیر میں کوروناوائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد459تک پہنچ گئی ،جن میں سے 425کا تعلق کشمیر صوبہ سے اور34کاتعلق جموں صوبہ سے ہیں۔اِس دوران آج مزید449 شفایاب ہوئے ہیںجن میںجموں صوبے کے181اور کشمیر صوبے کے 268اَفراد شامل ہیں ، جن کو جموں و کشمیر کے مختلف ہسپتالوں سے رخصت کیا گیا۔بلیٹن میں مزید کہا گیا ہے کہ اَب تک 706780ٹیسٹوں کے نتائج دستیاب ہوئے ہیں جن میں سے  08؍اگست2020ء کی شام تک 682390نمونوں کی رِپورٹ منفی پائی گئی ہے ۔علاوہ ازیں اَب تک388741افراد کو نگرانی میں رکھا گیا ہے جن کا سفر ی پس منظر ہے اور جو مشتبہ معاملات کے رابطے میں آئے ہیں۔ ان میں42012اَفراد کو ہوم قرنطین میں رکھا گیا ہے جس میں سرکار کی طرف سے چلائے جارہے قرنطین مراکز بھی شامل ہیں ۔7264کو ہسپتال آئیسولیشن میں رکھا گیا ہے جبکہ47304 اَفراد کو گھروں میں نگرانی میں رکھا گیا ہے۔اسی طرح بلیٹن کے مطابق291702اَفرادنے 28روزہ نگرانی مدت پوری کی ہے۔بلیٹن کے مطابق سری نگر میں اَب تک کورونا وائرس کے6000معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے2392سرگرم معاملات ہیں ۔3459مریض صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ149 افرادکی موت واقع ہوئی ہے۔ بارہمولہ میں اب تک کورونامریضوں کی تعداد 2093ہوئی ہیںجن میں سے 400سرگرم معاملات ہیں اور79مریضوں کی موت واقع ہوئی ہیںاور 1614صحتیاب ہوئے ہیں۔ضلعپلوامہضلع میں کووِڈ ۔19کے 1807معاملات کی تصدیق ہوئی ہے جن میں734 سرگرم معاملات ہیں اور 1044مریض صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ29کی موت واقع ہوئی ہے۔ادھرکولگام میں1594مثبت معاملات پائے گئے ہیںجن میں155سرگرم معاملات ہیںاور 1410صحتیاب ہوئے ہیںاور29کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ضلع شوپیان میں 1514 مثبت معاملات سامنے آئے ہیںجن میں182سرگرم ہیں اور 1308صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ 24کی موت واقع ہوئی ہے۔ ضلع اننت ناگ میں 1521 مثبت معاملے سامنے آئے ہیںجن میں313 سرگرم ہیں۔ 1176شفایاب ہوئے ہیں اور32ی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع بڈگام میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی کُل تعداد اب تک 1523ہوئی ہیںجن میں سے 448سرگرم ہیں اور1041اَفراد صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ34کی موت واقع ہوئی ہے ۔اِدھرکپواڑہ میں 1230ت معاملات درج کئے گئے ہیں اور 233سرگرم معاملات ہیں اور972صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ 25 کی موت واقع ہوئی ہے۔بانڈی پورہ میں اب تک 972مثبت معاملات سامنے آئے ہیں جن میں سے344سرگرم معاملات ہیں ، 611مریض صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ 17کی موت واقع ہوئی ہے۔ گاندربل میں کل 654 معاملات سامنے آئے ہیں جن میں307سرگرم معاملات ہیں اور 340 اَفراد شفایاب ہوئے ہیںجبکہ 07 کی موت واقع ہوئی ہے۔اِسی طرح  جموں میں وائر س کے 1513مثبت معاملات پائے گئے ہیں جن میں700سرگرم معاملات ہیں اور790صحت یاب ہوئے ہیںاور23کی موت واقع ہوئی ہیجبکہراجوری ضلع میں کورونا کے اب تک756 مثبت معاملات سامنے آئے جن میں سے 231 افراد سرگرم ہیںاور 522اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ 03 کی موت واقع ہوئی ہے۔ضلع رام بن میں576معاملات سامنے آئے ہیںجن میں 41سرگرم معاملات ہیں اور534 شفایاب ہوئے ہیں اور ایک کی موت واقع ہوئی ہے۔دریں اثنأکٹھوعہ میں589مثبت معاملہ سامنے آئے ہیںجن میں 104سرگرم معاملات ہیںاور 484اَفراد صحتیاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے جبکہاودھمپور ضلع میں اب تک کورونا مریضوں کی کُل تعداد 619 ہوئی ہیں جن میں سے 203معاملات سرگرم ہیں۔ 414اَفراد صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ02کی موت واقع ہوئی ہے،ضلع سانبہ میں 485مثبت معاملے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں 169سرگرم معاملات ہیں اور 315اَفراد شفایاب ہوئے ہیںجبکہ 01 کی موت واقع ہوئی ہیجبکہ ڈوڈہ میں 302عاملات سامنے آئے ہیںجن میں سے47معاملات سرگرم ہیں جبکہ253مریض پوری طرح شفایاب ہوئے ہیں اور02 مریض کی موت واقع ہوئی ہے۔اس طرح پونچھ میں265معاملے سامنے آئے ہیں جن میں 91سرگرم معاملات ہیں جبکہ173مریض شفایاب ہوئے ہیںجبکہ ایک کی موت واقع ہوئی ہے اورریاسی میں بھی214معاملات سامنے آئے ہیں جن میں134سرگرم ہیں اور80اَفراد شفایاب ہوئے ہیں۔ کشتواڑ میں163 مثبت معاملے سامنے آئے ہیں جن میں36 معاملے سرگرم ہیں اور127مریض پوری طرح سے صحتیاب ہوئے ہیں ۔بلیٹن میںکہا گیاہے کہ یہ ترتیب اُن ضلعوں کی ہے جہاں سے مریضوں کا پتہ لگا ہے۔
 یا جہاں وہ عارضی طور پر رہائش پذیر ہے۔ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کووِڈ۔19سے بچائو کے لئے باقی لوگوں سے کم از کم دو میٹر کا جسمانی فاصلہ قائم کرنے اور بار بار پانی سے ہاتھ دھونے یا الکوہل پر مبنی ہینڈ سینی ٹائزر سے ہاتھ صاف کرنے سے انسان اس بیماری سے محفوظ رہ سکتا ہے۔عوامی مقامات اور کام کی جگہوں پر سماجی دُوری کے لئے ایک اِقدام کے طور پر چہرے کا احاطہ کرنا لازمی ہے۔بلیٹن میں مزید بتایا گیا کہ کووِڈ۔19 کی اِبتدا میں ہی تشخیص سے یہ وَبامزید پھیلنے سے روکی جاسکتی ہے۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ذمہ داری کا ثبوت دے کر جاری ایڈوائزری پر سختی سے کاربندرہیں اور کووِڈ۔19بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر اُسے نہ چھپائیں کیوں کہ اِس سے ایسے اَفراد کے افراد خانہ کے ساتھ ساتھ اُن کی اپنی زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔بخار ، کھانسی اور سانس لینے میں تکلیف کی علامات ظاہر ہوتے ہی کووِڈ۔19 ہیلپ لائینوں پر رابطہ قائم کر کے طبی مشورہ حاصل کی جاسکتی ہے۔دریں اثنا میڈیا بلیٹن میں جاری ایڈ وائزری میں کہا گیا ہے کہ کووِڈ۔19 ایک اِنتہائی پھیلنے والی بیماری ہے جو کسی کو بھی اپنی چپیٹ میں لے سکتی ہے اور اِس سے بچنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ وائرس سے دور رہ جائے۔ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بیماری سے بچنے کے لئے گھروں میں رہیں اور سماجی دُوری پر عمل کریں۔ذاتی صفائی ستھرائی کے حوالے سے ایڈوائزری میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بار بار صابن اور پانی سے ہاتھ دھوئیں اور کھانسی چھینکتے وقت اَپنا منھ ڈھانپ لیں۔ایڈ وائزر ی میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کسی کے ایسے اَفراد کے رابطے میں نہ آئیں جو بخار یا کھانسی میں مبتلا ہو اور اگر کوئی بھی شخص بخار ، کھانسی میں مبتلا ہو اور اُسے سانس لینے میں مشکل آتی ہوتو وہ طبی صلاح و مشور ہ لیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ کووِڈ ۔19ہیلپ لائین نمبرات پر رابطہ قائم کرسکتے ہیں تاکہ اُنہیں ضرورت پڑنے پر صحیح طبی مشورہ دیا جاسکے۔دریں اثنأ لوگ کسی بھی ایمرجنسی کے دوران چوبیس گھنٹے کام کرنے والی مفت ایمبولنس خدمات سے اپنی دہلیز پر فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔اِس ایمبولنس خدمت کا ٹول فری نمبر ہے 108 ۔حاملہ خواتین اور بیمار بچے ٹول فری نمبر 102 پر کال کر کے مفت ایمبونس خدمات سے فائدہ حاصل کرسکتے ہیں۔     لوگ عام قومی سطح کے ٹول فری ہیلپ لائن نمبر 1075 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ 0191-2549676 ( جموں کشمیر کیلئے ) ،,0191-2674444,0191-2674115 0191-2520982 ( صوبہ جموں ) ، 0194-2440283 اور 0194-2430581 ( صوبہ کشمیر ) کیلئے قائم کئے گئے ہیں اور لوگ نوول کوروائرس(کووِڈ۔19)سے متعلق جانکاری ان نمبرات پر حاصل کرسکتے ہیں۔لوگوں سے کہا کیا ہے کہ وہ حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کی جانے والی ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں۔ لوگوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ سرکار کی جانب سے فراہم کی جانے والی جانکاری پر ہی بھروسہ کریں۔لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ نہ افواہیں پھیلائیں اور نہ اُن پر کان دھریں۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں