بیک ٹو ولیج پروگرام اور دیہی علاقوں میں تعمیر و ترقی

 بیک ٹو ولیج پروگرام کا تیسرا مرحلہ 2اکتوبر سے شروع ہورہا ہے ۔اور اس باراس پروگرام کو کامیاب بنانے کےلئے حکومت کی طرف سے حتی الامکان حد تک کوششیں کی جارہی ہیں۔ بیک ٹو ولیج کاموں کےلئے ہر پنچایت کے حق میں حکومت کی طرف سے دس دس لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کی گئی ہے تاکہ رقومات کی عدم دستیابی کام میں رکاوٹ کا باعث نہ بن سکے ۔ بیک ٹو ولیج پروگرام کا مقصد یہ بتایا جارہا ہے کہ اس سے لوگوں کو دفاتر کے چکر کاٹنے سے نجات مل سکے گی اور ان کے کام ان کی دہلیز پر بھی حل کرنے کا موقعہ مل سکے ۔ بڑے بڑے افسر پر پنچایت حلقے میں جاکر لوگوں سے ملتے ہیں ان کے مسایل و مشکلات سے آگاہی حاصل کرنے کے بعد ان کی مشکلات کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس سے قبل اگر لوگوں کو ڈپٹی کمشنر یا کسی بڑے افسر کے پاس جانے کی ضرورت پڑتی تھی تو اسے کئی کئی دنوں تک دفاتر کے چکر کاٹنا پڑتے تھے تب کہیں جاکر اسے ملاقات کی اجازت دی جاتی تھی لیکن اب ڈپٹی کمشنر سمیت تمام بڑے بڑے افسر اس کے علاقے میں پہنچ کر نہ صرف سرسری طور پر دورہ کرتے ہیں بلکہ اطمینان سے بیٹھ کر لوگوں کے مسایل و مشکلات سے آگاہی حاصل کرکے ان کو حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ دوسرے ضلعی افسر بھی ہر علاقے میں جاکر لوگوں سے ملتے ہیں۔ اس طرح عوامی مسایل سے حکومت آگاہ ہوتی ہے ۔ اب جبکہ بیک ٹو ولیج کا تیسرا مرحلہ شروع ہورہا ہے لوگوں کو امید ہے کہ ان کے مسایل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ ستمبر کے بعد اکتوبر اور نومبر گویا سردیاں شروع اور سردیوں کے آغا ز سے ہی وادی کے لوگوں کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ سب سے بڑا اور اہم مسئلہ پاور کا ہے جس کا سردیوں میں کبھی کبھار ہی منہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے اس کے بعد پانی کی فراہمی جیسے مسایل بھی شامل ہیں ۔ برفباری ، سرینگر جموں شاہراہ بار بار بند ہوجاتی ہے جس سے وادی بھر میں اشیائے ضروریہ کی قلت پیدا ہوجاتی ہے ۔ دکاندار حضرات موقعے کا ناجائیز فایدہ اٹھا کر ناجائیز منافع خوری کے مرتکب ہورہے ہیں اگرچہ سارے دکاندار ایسا نہیں کرتے ہیں اور وہ ایماندار ی سے اپنا کاروبار کرتے ہیں لیکن بعض دکاندار حد سے زیادہ ناجائیز منافع خوری کرکے لوگوں کی جیبوں پر ہاتھ ڈالنے سے بھی نہیں چوکتے ہیں ۔ سڑکوں کا مسئلہ بھی ہے خاص طورپر گائوں میں بیشتر سڑکیں کچی ہوتی ہیں اور یہ سڑکیں سالہا سال سے اسی حالت میں رکھی جاتی ہیں لیکن ان کی حالت میں سدھار لانے کی امید پیدا ہوگئی ہے اس پروگرام کو اگر سنجیدگی سے عملایا جائے گا تو بہت سے عوامی مسایل کا حل نکل سکتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں