قطر مذاکرات میں جنگ بندی کے علاوہ دیگر مسائل پر بحث

قطر/ 13ستمبر/ ایجنسیز/ افغانستان کی چالیس سالہ بدامنی بالخصوص گذشتہ بیس برس سے جاری جنگ کے خاتمے کیلئے ہفتے کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پہلی مرتبہ بین الافغان مذاکرات کا رسمی طور پر افتتاحی اجلاس ہوا۔ مذاکرات کے افتتاحی اجلاس میں اگرچہ افغانستان سے گئے ہوئے افغان حکومتی وفد کی سب سے پہلی ترجیح جنگ بندی تھی، لیکن طالبان وفد کیلئے جنگ بندی سے زیادہ اہم کچھ اور مسائل تھے، جو اُن کے مطابق جنگ بندی سے پہلے حل ہونے چاہیے۔ طالبان کے سابق ترجمان اور مذاکراتی ٹیم کے رکن سہیل شاہین نے کہا کہ جنگ بندی سے پہلے وہ عوامل ختم کرنے ہوں گے جس کی وجہ سے جنگ جاری ہے۔ ’ہم بھی جنگ بندی چاہتے ہیں لیکن جنگ بندی کی اپنی جگہ ہے، یہاں افغانستان کے نظام کے بارے میں مسائل ہیں، جن پر بحث ہو گی۔ جب ایک ایسا نظام بنے گا جو سب کو قابل قبول ہو گا، تب جنگ ختم ہوگی۔‘ سہیل شاہین کے مطابق انہیں اْمید ہے کہ اس بات چیت کے ذریعے یہ مسائل حل ہوں گے۔ طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے صحافیوں کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے میں یہ بات ہوئی ہے کہ جنگ بندی پر بحث بین الافغان مذاکرات میں ہوگی۔ تاہم انہوںنے یہ بتایا کہ بین الافغان مذاکرات کے لیے اُن کا ایجنڈا کیا ہو گا۔ دوسری جانب افغان حکومتی وفد میں شامل تمام ارکان بین الافغان مذاکرات میں سب سے زیادہ جنگ بندی پر زور دے رہے ہیں۔  بین الافغان مذاکرات کے لیے اگرچہ افغان حکومتی وفد میں پانچ خواتین شامل ہیں تاہم طالبان وفد میں حسب معمول ایک بھی خاتون نہیں ہیں۔ بین الافغان مذاکرات کے افتتاحی تقریب میں بہت سارے صحافیوں نے طالبان وفد کے اراکین سے الگ الگ اس بارے میں پوچھا کہ آپ کی وفد میں خاتون کیوں نہیں ہیں؟

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں