جموںوکشمیر میں اب کوئی مین اسٹریم لیڈر گھر میں نظر بند نہیں - صرف 223افراد مختلف جیلوں میں مقید ہیں دفعہ 370کی تنسیخ سے وادی کشمیر میں تشدد آمیز واقعات میں کمی ہوئی ہے :امور داخلہ کے مرکزی وزیر

نیوز ایجنسیز : نئی دہلی/امور داخلہ کے وزیر مملکت کا کہنا ہے کہ جموںوکشمیر میں 223افراد مختلف جیلوں میں مقید ہے تاہم کوئی بھی سیاسی لیڈر گھر میں نظر بند نہیں ہے۔ انہوںنے کہا کہ دفعہ 370کی منسوخی کے بعد جموںوکشمیر میں تشدد آمیز واقعات میں غیر  جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر اور لداخ اب پوری طرح سے بھارت میں ضم ہو چکے ہیں۔ لوک سبھا میں ممبروں کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے جواب میں امور داخلہ کے وزیر مملکت جی کرشن ریڈی نے کہاکہ جہاں تک جموںوکشمیر کی بات ہے تو میں یہ بتا دینا چاہتاہوں کہ 370کی منسوخی کے بعد وادی میں حالات معمول پر آئے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ دفعہ 370کی تنسیخ کے بعد وادی کشمیر میں عسکری کارروائیوں میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے جبکہ سنگباری بھی پوری طرح سے ختم ہو چکی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جموںخاص کر وادی کشمیر کے لوگ حکومت کو بھر پور تعاون فراہم کر رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ اس وقت جموںوکشمیر میں 223افراد مختلف جیلوں میں مقید ہے۔ انہوںنے کہاکہ جہاں تک مین اسٹریم لیڈران کی بات ہے تو کوئی بھی لیڈر نظر بند نہیں ہے۔ امور داخلہ کے وزیر مملکت کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جموںوکشمیر کے متعلق لئے گئے فیصلوں کی ہر طرف تائید ہو رہی ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر اور لداخ اب پوری طرح سے بھارت میں ضم ہو چکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر میں اب مرکز کے سبھی قوانین سیدھے طورپر نافذ العمل ہے۔ انہوںنے کہاکہ جموںوکشمیر میں ہر طرف تعمیر وترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا ہے۔ انہوںنے کہاکہ سماج کے ہر طبقہ کو برابری کی بنیاد پر انصاف فراہم کرنے کی خاطر موجودہ مرکزی حکومت کوشاں ہے اور اس حوالے سے مختلف سطحوں پر اقدامات اُٹھائے جارہے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ 370کے بدولت جموںوکشمیر کے لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی تھی کیونکہ اُنہیں اس قانون میں جکڑا گیا تھا تاہم اب جبکہ اس قانون کا ہمیشہ کیلئے خاتمہ ہو گیا ہے اب لوگ بھی پوری طرح سے بھارت میں ضم ہو چکے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مرکزی حکومت جموںوکشمیر کی طرف خصوصی توجہ مبذول کر رہی ہیں ، نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نئے پروجیکٹ بھی ہاتھ میں لئے گئے ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں