عالمی وبا ئ اور شادی بیاہ کی تقریبات,

,

وادی میں شادی بیاہ کے حوالے سے اگست،ستمبر اور اکتوبر کے مہینے انتہائی مصروف ترین مہینے ہوتے ہیں کیونکہ ان تین مہینوں میں شادی بیاہ کی سینکڑوں تقریبات منعقد کی جاتی ہیں ۔ اگرچہ باقی مہینوں میں بھی شادیاں ہوتی ہیں لیکن ان تین مہینوں کے مقابلے میں بہت کم ۔لیکن جب سے کووڈ 19نے اپنے پنجے پھیلانے شروع کئے تو اس سے روزمرہ کی زندگی کافی متاثر ہوگئی اور ہر شعبہ مفلوج ہوکر رہ گیا ۔ کوئی کام ڈھنگ سے نہیں ہوپارہا ہے ۔بھارت میں مارچ سے عالمی وبا طوفان کی طرح آیا تو سہی لیکن اب جانے کا نام ہی نہیں لیتا ہے ۔ ہر روز سینکڑوں کی تعداد میں لوگ مررہے ہیں جبکہ ایک ایک دن میں نوے اسی ہزار سے زیادہ اس کے شکار ہوجاتے ہیں ۔کشمیر اور جموں میں بھی کووڈ تیزی سے پھیلتا گیا ایک وقت تھا کہ وادی میں زیادہ اور جموں میں کم لوگ کووڈ کا شکار ہوتے تھے لیکن اب جموں میں زیادہ لوگ اس موذی مرض میں مبتلا ہونے لگے ہیں اور اموات کی تعداد بھی بڑھنے لگی لیکن ایک بات باعث اطمینان ہے کہ اب ٹیسٹنگ کا عمل تیز ہونے لگا ہے ،ملازمین ،تاجروں ،دکانداروں اور گھر گھر ٹیسٹنگ سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ کتنے لو گ پازیٹو ہیں اور کتنے لوگ اس مرض میں مبتلا نہیں ہیں ۔غرض اب اس مرض سے نمٹنے کےلئے منظم طریقہ کار استعمال کیاجانے لگا ہے جس کی سراہنا کی جارہی ہے ۔چنانچہ جیسا کہ اوپر ذکر کیاگیا ہے کہ اس وقت شادی بیاہ کا سیزن عروج پر ہے لیکن اب ان شادیوں کی تقریبات پر مہمانوں کے درمیان سوشل ڈسٹنسنگ کا خاص خیال رکھا جارہا ہے اور مہمانوں کو کھانا اب ترامیوں کے بجاے پلیٹوں میں پروسا جاتا ہے یعنی وہ لوگ جن کے ہاں شادی بیاہ کی تقریبات منعقد ہورہی ہیں ایس او پیز کا خاص خیال رکھتے ہیں لیکن بعض لوگ مقررہ حد سے زیادہ مہمانوں کو مدعو کرتے ہیں جو ڈزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ کی صریحاًخلاف ورزی کہلائی جاسکتی ہے اور جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کےخلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے ۔ حال ہی شہر میں ایک جگہ شادی کی ایسی تقریب منعقد ہوئی جہاں حدسے زیادہ مہمانوں کو مدعو کیاگیا تھا اور جہاں پٹاخے اور بنگولے سر کرکے محلے اور آس پاس میں رہنے والے لوگوں خاص طور پر بچوں کو خوفزدہ کردیا گیا۔ اس طرح کی حرکتیں کسی بھی صورت میں اس وقت جائیز قرار نہیں دی جاسکتی ہیں بلکہ ان کی مذمت کی جانی چاہئے۔ عالمی وبا ئ کے ہوتے ہوئے جتنے کم مہمان ہونگے اتنا ہی اس وبائ سے محفوظ رہا جاسکتا ہے ۔ بنگولے سر کرنا اس وقت زیب نہیں دیتا ہے ۔ شادی بیاہ ایک سنجیدہ تقریب ہے اس کو سنجیدگی کے ساتھ انجام دینا چاہئے ۔ عالمی وبا ئ دستک دے کر نہیں آتی ہے اس لئے اس سے خود کو اپنے اہل و عیال ، ہمسائیوں دوستوں اور رشتہ داروں کو بچانے کےلئے شادی بیاہ کی تقریبات میں ایس او پیز پر مکمل طور عمل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کووڈ 19کو پھیلنے سے روکا جاسکے ۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں