ہندوستانی فوج کوکیاگیاہائی الرٹ

جے کے این ایس مانیٹرنگ : سرینگر/مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن پرکئی مہینوں سے جاری سخت سرحدی کشیدگی کے بیچ اسبات کاانکشاف ہوا ہے کہ چین کی فوج نے اروناچل پردیش میں سرحدکے نزدیک اپنی ہلچل بڑھادی ہے اورچینی فوج یہاں بغیرآبادی والی کسی جگہ کواپنے قبضے میں لینے کی فراق میں ہے ۔ لداخ کے ریزانگ لا میں دراندازی کی کوشش کے بعد اب چین کی فوج اروناچل پردیش کی سرحد پر اپنی نظریں جما رہی ہے۔نیوزرپورٹ کے مطابق چین اب اروناچل پردیش/ جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 میں حقیقی لائن آف کنٹرول پر اپنے فوجیوں کےلئے ٹھکانے بنا رہا ہے۔ ہندستانی فوج نے چینی سرحد میں پیپلز لبریشن آرمی کی موومنٹ کا نوٹس لیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اروناچل پردیش کے اسفلہ، ٹوٹنگ، چانگ جا اور فشٹل2 کے برعکس علاقے میں چینی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں۔ یہ علاقے ہندستانی سرحد سے محض20 کلومیٹر کی دوری پر ہیں۔سی این این نیوز 18نے حکومت کے اعلیٰ ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے اپنی ایک رپورٹ میں ندیشہ ظاہرکیا ہے کہ چینی فوج ہندوستانی علاقے میں دراندازی کی فراق میں ہے۔اور چین کی فوج کسی پر امن اور بغیر آبادی والی جگہ کو اپنے قبضے میں لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ چینی افواج کی طرف سے دراندازی کے اندیشے کے مدنظر ہندوستانی فوج الرٹ پر ہے اور یہاں فوجیوں کی تعیناتی بھی بڑھا دی گئی ہے۔رپورٹ کے مطابق پچھلے کچھ دنوں سے اروناچل پردیش میں حقیقی لائن آف کنٹرول سے کچھ کلومیٹر گہرائی والے علاقوں میں چینی فوج اپنی بنائی سڑکوں پر سرگرمیاں بڑھا رہی ہے۔ چینی فوج گشت کے دوران ہندستانی علاقوں کے نزدیک بھی آ رہی ہے۔ نیوز ایجنسی رائٹرز نے حال ہی میں ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ اروناچل پردیش میں ایل اے سی پر چینی افواج کی سرگرمی کے پیش نظر ہندوستانی فوج نے یہاں مزید جوانوں کی تعیناتی کر دی ہے۔ فوج ایسی کسی بھی کوشش کا جواب دینے کے لئے پوری طرح سے تیار ہے اور اسے لے کر اس نے اپنی صلاحیت بڑھائی ہے۔بتا دیں کہ2017 کے بعد ڈوکلام میں پچھلے 6 ماہ سے ایک بار پھر سے ہندستان اور چین کی افواج کے درمیان کشیدگی کی صورت حال بنی ہے۔ چین کی فوج یہاں بھوٹان کی سرحد میں جھامری رج تک سڑک تعمیر کر رہی ہے۔ چین کی اس گستاخی نے سلی گوڑی کوریڈور کے لئے خطرہ پیدا کر دیا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں