سوپور میں نوجوان کی پرُ اسرار ہلاکت - نوجوان کو زیرحراست ہلاک کیاگیا ،لواحقین کےالزامات

عابد نبی � کے این ایس : سوپور/ بارہمولہ کے ایپل ٹاؤن سوپور میں نوجوان کی حراست میں لینے کے بعد پُرسرار موت کے خلاف بدھ کے روز لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ نوجوان کو دورانِ حراست ہلاک کیا گیا ۔پولیس کا دعویٰ کہ نوجوان جنگجوؤں کا معاؤن تھاجبکہ اس کی تحویل سے گرینیڈ بھی برآمد ہوئے اور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوا تھا۔ادھر قصبے میں امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے انٹر نیٹ سروس بند کردی گئی ۔ سوپور میں بدھ کی صبح اُس وقت تناؤ کی صورت ِ حال پیدا ہوگئی جب ایک نوجوان کی حراست میں لینے کے بعد پُراسرار طور موت واقع ہوئی ۔نامہ نگار کے مطابق عرفان احمد ڈار ولد مرحوم محمد اکبر ڈار ساکن صدیق کالونی سوپور نامی نوجوان کو حراست میں لیاگیا تھا جسکی لاش پتھر کی کان سے پُراسرار طور پر برآمد ہوئی ۔نامہ نگار نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ اس سے / جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
قبل اس نوجوان کے بڑے بھائی جاوید احمد کو بھی پولیس نے پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا تھا اور دیر رات گئے اسے رہا کردیا گیا تھا ۔ عرفان کے بھائی نے نامہ نگاروں کو مزید بتایا’ پولیس نے ہم دونوں بھائیوں کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیا اور ہمیں علیحدہ علیحدہ رکھا گیا ،مجھے رہا کیا گیا اور عرفان کو نظر بند رکھا گیا ‘۔ان کا کہناتھا’ میرے بھائی کو دوپہر12بجکر45منٹ پر حراست میں لیا گیا ،مجھے سہ پہر4بجے حراست میں لیا گیا ،دوران حراست میری طبیعت زیادہ بگڑ گئی ،مجھے رہا کردیا گیا ،لیکن میرے بھائی کو رہا نہیں کیا گیا‘۔انہوں نے کہا ’نہ تو میرا اور نہ ہی میرے بھائی کا جنگجوؤں کیساتھ کوئی رابطہ ہے ،میرا بھائی معصوم اور پیشہ سے دکاندار تھا ،پولیس کا گرینیڈ برآمد کرنے کا دعویٰ بے بنیاد ہے ،ہم چاہتے ہیں واقعہ کی غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تحقیقات کی جائے ،میرے بھائی کا بہیما نہ قتل کیا گیا ہے ‘۔عرفان کے بارے میں مزید معلوم ہوا ہے کہ وہ’ ہائر اسکینڈری ڈراپ آؤٹ ‘ اور روزگار حاصل کرنے کے لئے دکانداری کررہا تھا ۔ عرفان کی پُراسرار ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی قصبے میں کشیدگی کی لہر دوڑ گئی اور رات کو ہی قصبے میں انٹر نیٹ سروس بند کردی گئی ،جو بد ھ کو دن بھر معطل رہی ۔عرفان کی پُراسرار ہلاکت کے خلاف بد ھ کو اُس کے لواحقین ،رشتہ داروں اور دیگر لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔مظاہرین کا الزام ہے کہ عرفان کو زیر حراست ہلاک کیا گیا جبکہ پولیس کا دعویٰ سرا سر بے بنیاد اور من گھڑت ہے ۔مظاہرین نے واقعہ کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ۔نامہ نگار کے مطابق قصبے میں جزوی طور پر ہڑتال رہی جبکہ صورت حال کنٹرول میں ہے ۔: پولیس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے شمالی قصبہ سوپور میں ہوئی نوجوان کی ہلاکت کی وضاحت کی۔پولیس نے اپنے بیان میں کہا’ گذشتہ روز جنگجوؤں کا ایک بالائے زمین کارکن عرفان احمد ڈار ولد محمد اکبر ڈار ساکن صدیق کالونی سوپور کو گرفتار کرکے اس کی تحویل سے دو چینی ساخت گرینیڈ بر آمدکئے گئے‘۔اس سلسلے میں پولیس ا سٹیشن سوپور میں ایف آئی آر نمبر257/2020زیر دفعات یو پی اے (پی) ایکٹ ،7/27آرمز ایکٹ کے تحت کیس درج کیا گیا۔پولیس بیان میں مزید کہا گیا’تحقیقات کے دوران پولیس کی ایک ٹیم ملزم کے ہمراہ ڑیرہ دجی،تجر شریف علاقے میں پہنچی تاکہ مزید بر آمدگی عمل میں لائی جاسکے جس کا انکشاف گرفتار شدہ او جی ڈبلیو نے کیا تھا‘۔پولیس بیان کے مطابق”اسی اثناءمیں اندھیرے کا فائدہ اٹھاکر عرفان نے پولیس کو چکمہ دیکر راہ فرار اختیار کی جس کے بارے میں پولیس ا سٹیشن بمئی میں کیس زیر ایف آئی آر نمبر71/2020زیر دفعہ224آئی پی سی درج کیا گیا۔بعد ازاں تلاشی کارروائی کے دوران عرفان کی لاش تجر شریف میں ہی ایک پتھر کی کان کے نزدیک بر آمد کی گئی‘۔پولیس نے کہا کہ لاش کو قانونی لوازمات کیلئے پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی)لے جایا گیا ،جہاں سے لاش کو مزید قانونی وطبی لوازمات پولیس کنٹرول روم سرینگر میں واقع پولیس اسپتال منتقل کی گئی جبکہ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں