آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین جھڑپیں، متعدد ہلاکتیں

یریوان، 28 ستمبر âایجنسیزá نگورنو قارباخ â جمہوریہ ارتسخá کے صدر آریائیک ہاروتیونیان نے کہا ہے کہ آرمینیا اور آذربائیجان کے مابین اتوار کے روز ہونے والی پرتشدد جھڑپ میں متعدد فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ عام شہری بھی اس پر تشدد تصادم میں ہلاک ہوئے ہیں ۔ مسٹر ہاروتیونیان نے ایک آن لائن پریس کانفرنس میں کہا کہ متعدد درجن فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس جھڑپ میں کئی درجن شہری بھی زخمی بھی ہوئے ہیں۔ آرمینیا نے مارشل لا نافذ کرتے ہوئے اپنی افواج کو متحرک کر دیا ہے جبکہ آذربائیجان کی فوج نے اس تنازع میں ترک فوج کے ایف 16 جنگی طیارے استعمال کئے ہیں۔ آذربائیجان کی فوج ترک فوج کے جدید ہتھیاروں سے لیس ہے ۔ آذربائیجان کی فوج پر الزام ہے کہ انہوں نے شہریوں پر اسلحہ کااستعمال کیا ہے ۔ اس سے قبل نگورنو قاراباخ خطہ کے ایک علاقے پر قبضہ کے حوالہ سے آرمینیا اور آذربائیجان کی فوج کے مابین ایک پرتشدد جھڑپ کا آغاز اتوار سے ہوا تھا۔ آرمینیا کی وزارت دفاع نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ نگورنو قاراباخ خطے میں آذربائیجان کی فوج کے ساتھ جھڑپ میں اس کے 16 فوجی ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوگئے ۔ آرمینیا نے آذربائیجان پر فضائی اور توپ خانوں سے حملوں کا الزام لگاتے ہوئے آذربائیجان کے ہیلی کاپٹر گرانے اور ٹینک تباہ کرنے کی اطلاعات دی ہیں جبکہ آذربائیجان نے کہا ہے کہ اس نے گولہ باری کے جواب میں کارروائی شروع کی۔ واضح رہے کہ ناگورنو قرہباخ کا خطہ بین الاقوامی سطح پر آذربائیجان کا تسلیم شدہ حصہ ہے لیکن 1994 میں ختم ہونے والی جنگ کے بعد سے اس کا کنٹرول نسلی آرمینیائی باشندوں کے پاس ہے۔ اتوار کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے اس نئے بحران میں آذربائیجان کی حمایت کا وعدہ کیا جبکہ روایتی طور پر آرمینیا کے اتحادی کے طور پر دیکھے جانے والے روس نے فوری طور پر جنگ بندی اور صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے بات چیت کا مطالبہ کیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں