جموں اور سرینگر کے درمیان ریل سروس 15اگست 2022تک بحال ہوگی یا نہیں

سرینگر اور جموں کے درمیان براہ راست ریل کب چلے گی اس بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہاجاسکتا ہے البتہ حکام نے اس کےلئے 15اگست 2022کی ڈیڈلائین مقرر کی ہے اور متعلقہ حکام جو اس ریلوے لائین کو بچھانے کے کام سے جڑے ہیں پر زور دیا گیا کہ وہ ریلوے لائین کو متذکرہ بالا تاریخ تک مکمل کریں تاکہ اسے قوم کے نام وقف کیاجاسکے ۔دس برس کے طویل عرصے کے بعد بانہال میں ساڑھے آٹھ کلومیٹر لمبی ریلوے ٹنل کی کھدائی کا کام مکمل کیا گیا ہے اس موقعے پر ایک تقریب منعقد کی گئی جس میں اعلیٰ ٰضلع حکام اور ریلوے حکام کے علاوہ تعمیراتی فرموں کے عہدیداراں بھی شامل تھے ۔ کہا جارہا ہے کہ اس ریلوے ٹنل کی مدد سے کھڑی اور بانہال کے درمیان ریلوے لائین کاکام آیندہ دو برسوں میں مکمل ہوگا ۔ یہ ریلوے ٹنل نمبر 74چانگلدار بانہال اور کھڑی کے درمیان ایک سو دس کلو میٹر لمبی کٹرہ بانہال ریلوے لائین کے درمیان ایک اہم ریلوے ٹنل ہے ۔ بانہال اور کھڑی کے درمیان ریلوے ٹنل کی کھدائی کا کام مکمل کیاجاچکا ہے ۔ کہا جارہا ہے کہ 272کلو میٹر لمبی ادھم پور سرینگر بارہمولہ ریلوے پروجیکٹ کو مرکزی ریلوے 15اگست 2022تک مکمل کرے گی ۔ یہ کٹرہ او ربانہال کو ریلوے کے توسط سے ملانے کا اہم ذریعہ بن جائے گی یعنی اس ٹنل کی تعمیر جب مکمل ہوگی تو اس سے کٹرہ اور بانہال کے درمیان ریلوے رابطہ قایم ہوگا ۔ کشمیری عوام بر سہابرس سے سنتے آئے ہیں کہ جموں اور سرینگر کے درمیان ریل چلے گی کب چلے گی یہ کسی کو معلوم نہیں تھا لیکن اب جبکہ ریلوے ٹنل کی کھدائی مکمل کی جاچکی ہے تو لوگوں میں ایک موہوم سی امید پیدا ہوگئی ہے کہ اب شاید جموں اور سرینگر کے درمیان ریل چل سکتی ہے ۔ لوگوں کو امید ہے کہ حکومت نے اس حوالے سے جو ڈیڈ لائین مقرر کی ہے انجینئرصاحبان اگر چاہیں تو ڈیڈ لائین سے قبل ہی اس پر کام کی رفتار بڑھاکر اسے مکمل کرینگے کیونکہ جیسا کہ اس سے پہلے بھی کہاجاچکا ہے کہ سرینگر جموں شاہراہ پر گاڑی چلانا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔ سڑک اب ہر ہفتے ایک دو دن بند رہتی ہے اور یہ اب کافی خستہ ہوچکی ہے اور کئی مقامات پر دھنسنے کے علاوہ مختلف مقامات پر اس پر اب پسیاں گرنے لگی ہیں اور یہ عمل برابر جاری رہتا ہے ۔اس میں انجینئروں کا کوئی قصور نہیں بلکہ یہ سڑک ہی اب بہت زیادہ ٹریفک کے دبائو سے ختم ہوچکی ہے ۔ اگر جموں اور سرینگر کے درمیان ریل چلے گی تو اس پر گاڑیوں کا دبائو کم ہوجائے گا ۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی یہی کوشش ہوگی کہ وہ فوری طور جموں پہنچ کر اسی دن واپس سرینگر پہنچ جائیں ۔ ریل سروس سے وقت کی بچت بھی ہوگی اور پیسے بھی زیادہ خرچ نہیں ہونگے ۔ شاہراہ بند ہوتے ہی ہوائی کمپنیاں کرایہ کی شرحوں میں اضافے کا مرتکب ہوتی ہیں ان کو کوئی روکتا اور ٹوکتا نہیں۔ غرض کشمیری اس سے بھی مصیبت میں پڑ جاتے ہیں ۔ بھاڑے کی شرحیں بھی بڑھائی جاتی ہیں لیکن ریلوے سروس سے لوگوں کو بہت زیادہ فایدہ ہوگا اور سروس سال کے سال چالو رہے گی ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ریلوے حکام ڈیڈ لائین کے اندر اندر کام مکمل کرینگے یا نہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں