وادی میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وار داتیں

 آج تک ہم فلموں میں دیکھتے آئے ہیں کہ فلمی غنڈے رات کی تاریکی میں کھیتوں میں گھس کر فصلوں کو یا تو جلاتے ہیںیا درختو ں پر آریاں چلا کر ان کو تباہ و برباد کرتے ہیں ۔ یہ سب دیکھکر دیکھنے والے محضوظ ہوتے تھے لیکن کیا پتہ تھا کہ اصل زندگی میں بھی اس طرح کے واقعات یہاں بھی پیش آینگے اور وادی میں بھی فلمی طرز کے غنڈے نمودار ہوکر غریب کسانوں اور فروٹ گروورس کی سال بھر کی کمائی کو منٹوں میں نیست و نابود کرکے رکھ دینگے ۔ درگمولہ اور بیج بہاڑہ میں جو واقعات رونما ہوئے ان سے یہی لگتا ہے کہ شر پسند عناصر کس طرح انتقام گیری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور جرائم پیشہ افراد کےخلاف سخت کاروائی کرنے کےلئے پولیس کو اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ اخبارات میں اس حوالے سے کئی خبریں شہ سرخیوں کے ساتھ چھپ چکی ہیں کہ درگمولہ میں نامعلوم افراد نے راتوں رات سینکڑوں دھان کی گچھیوں کو جلا کر راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ اگلی صبح جب غریب کسان نے کھیت میں سال بھر کی کمائی کو راکھ کے ڈھیر میں پایا تو اس کی آنکھوں میں اندھیر ا چھاگیا اور وہ غش کھا کر گرپڑا۔ اب وہ اپنے اہل و عیال کو کیا کھلائے گا یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کس طرح انتقام گیری کے جذبے نے لوگوں کو اندھا کردیا اور وہ اس طرح کی حرکتوں کے مرتکب ہورہے ہیں اسی طرح بیج بہاڑہ کے مضافات میں راتوں رات بعض نامعلوم افراد ایک میوے باغ میں گھس گئے اور میوے دار درختوں پر آرے چلا کر ان کو کاٹ ڈالا ۔ اگلی صبح جب غریب فروٹ گروور اپنے باغ میں آیا تو یہ سب دیکھ کر ہکا بکا ہوکر رہ گیا ۔ اس کی بھی سال بھر کی کمائی پر آنا ًفاناًآرے چلاے گئے تھے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کو ن لوگ ایسے ہیں جو اس طرح کی قبیح حرکتوں کے مرتکب ہوکر لوگوں کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ایسے جرائم پیشہ افراد کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہئے ۔ اس سے قبل شادی کےلئے شاپنگ کرنے والی دو بہنوں کے پر س سے خواتین جبیب کتر یوں سے 90ہزار روپے اڑالئے لیکن پولیس نے فوری طور حرکت میں آکر نہ صرف یہ پیسہ بلکہ خواتیں جیب کتریوں سے دوسرا مال مسروقہ بھی برآمد کرلیا جو انہوں نے وقت وقت پر چرایا تھا ۔ اگر پولیس اس وقت بروقت کاروائی نہیں کرتی تو ایسے عناصر کا پتہ ہی نہیں چل سکتا ہے۔ وادی میں جس تیزی سے جرائم کی رفتار بڑھ گئی ہے وہ باعث تشویش ہے ۔اس بارے میں لوگوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے جبکہ پولیس پر بھی لازم ہے کہ وہ ایسے عناصر کیخلاف فوری نوعیت کی کاروائی کرے جو سماج میں جرائم کے جراثیم پھیلانے کے مرتکب بنتے جارہے ہیں ۔ ایسے عناصر کو ایسی سزائیں دی جانی چاہئے تاکہ دوسرے اسی قماش کے افراد عبرت حاصل کرسکیں ۔ جرائم کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کےلئے جہاں پولیس کو اہم رول ادا کرنا ہے وہاں لوگوں پر بھی یہ لازم آتا ہے کہ وہ بھی اس معاملے میں امن و قانون برقرار رکھنے والی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں تاکہ وادی میں جرائم کا خاتمہ ہوسکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں