جل جیون مشن لیکن سرینگر میں نل خشک

 کل یعنی اکتوبر کو انتظامی کونسل کا ایک اجلاس لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں جل جیون مشن کے تحت ہر گھر نل سے جل کو سال 2022تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائین مقرر کی گئی ہے۔ انتظامی کونسل نے ہر گھر کو نل کے ذریعے پانی فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ سال 2022تک جموں کشمیر میں رہنے والے لوگوں کو ان کے گھروں تک نلوں کے ذریعے پانی پہنچانے کا انتظام کیا جائے گا ۔ جل جیون مشن جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ لوگوں کی فلاح و بہبود کےلئے ہی شروع کیا گیا ہے کیونکہ اس منصوبے کے تحت اب کوئی گھر بقول سرکاری ذرایع نل کے بغیر نہیں رہے گا اور ہر گھر میں اب لوگ اپنے اپنے نلکوں سے پانی حاصل کرسکتے ہیں انہیں ندی کنارے ، نالے یا چشمے پر پانی حاصل کرنے کےلئے نہیں جانا پڑے گا۔ لیکن ایسا کرنے سے قبل کیا حکومت نے یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ جن گھروں میں برسہابرس سے نل لگے ہیں کیا ان کو ان نلوں سے پانی حاصل ہوتا ہے یا نہیں ۔ کہیں ان گھروں میں رہنے والے لوگوں کو نل گھروں میں ہونے کے باوجود ندی کنارے ، چشمے اور نالے پر پانی حاصل کرنے کےلئے تو نہیں جانا پڑتا ہے ۔ اس نل کا کیا فایدہ جو بالکل خشک ہوں اور جن میں پانی کی ایک بوند بھی نظر نہیں آرہی ہے ۔ شہر کی ہی مثال لیجئے کہ اگر کسی کو پانی کی ضرورت پڑے گی تو اسے پانی حاصل نہیں ہوسکتا ہے ۔ کئی ایک شہریوں نے انکشاف کیا کہ ان کو وضو تک کےلئے بھی پانی دستیاب نہیں ہوسکا ہے ۔ اس سال گرمائی ایام میں شہر میں پانی کی اس قدر قلت رہی کہ لوگوں کو پانی لانے کےلئے دو دو تین تین کلو میٹر تک جانا پڑتا تھا اگرچہ بیچ میں اس صورتحال پر قابو پایا گیا لیکن اس وقت بھی ایسی صورتحال موجود ہے ۔ خاص طور پر سول لائینز ائیریا جیسے لال چوک ، بڈشاہ چوک اور آس پاس کے علاقوں میں لوگوں کو ایک بوند بھی پانی میسر نہیں ہے ۔ وضو تک کےلئے بھی پانی نہیں ہے ۔ اگرچہ اس پر لوگوں نے مظاہرے بھی کئے لیکن اس کے باوجود محکمہ ٹس سے مس نہیں ہورہا ہے ۔ شہر خاص کی تو بات ہی نہیں وہاں چوبیس گھنٹے کے دوران کبھی کبھار ہی پانی میسر آتا ہے ۔ لوگ اس بات پر تعجب کا اظہار کررہے ہیں کہ ایک طرف حکومت اس بات کے بلند بانگ دعوے کررہی ہے کہ ہر گھر کو نل سے جل پہنچایا جائے گا لیکن جب عملی طور پر جائیزہ لیا جاتا ہے تو معلوم پڑتا ہے کہ بیشتر نل خشک پڑے ہیں اور لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں ۔ ان حالات میں ہر گھر نل سے جل مشن کے عمل آوری کے ساتھ ساتھ محکمے کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جن لوگوں کے ہاں پہلے سے ہی نل گھروں میں لگے ہیںان گھروں کو پانی آتا ہے یا نہیں۔ روزانہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اس حوالے سے خبریں شایع ہوتی ہیں اور جہاں جہاں مظاہرے کئے جاتے ہیں ان مظاہروں اور احتجاجی جلوسوں کی تصویریں شایع کی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود محکمہ ٹس سے مس نہیں ہوتا ہے ۔ اسلئے لیفٹننٹ گورنر کو چاہئے کہ وہ فوری طور اس جانب توجہ دیں اور جن علاقوں میں پانی کی قلت ہے ان علاقوں میں پانی کی فراہمی یقینی بنائی جائے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں