قیمتوں میں اضافے کا بڑھتا ہوا رحجان اور متعلقہ حکام کی خاموشی

اس سے قبل ان ہی کالموں میں حکام کی توجہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کی جانب مبذول کرواتے ہوئے کہا گیا کہ قیمتوں میں اضافے کا رحجان جس تیزی کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے اگر اس پر فوری طور قابو نہیں پایا جائے گا تو درمیانی طبقے اور غریبی کی سطح سے نیچے گذر بسر کرنے والے لوگوں کےلئے زندگی گذارنا کارے دارد والا معاملہ بن جائے گا۔ اس وقت بھی یہ لوگ مشکل سے زندگی گذارتے ہیں لیکن ان تاجروں کےخلاف کوئی کاروائی نہیں کی جاتی ہے جو از خود قیمتوں میں اضافے کا موجب بن جاتے ہیں اس طرح یہ لوگ سرکاری احکامات کو بھی خا طر میں نہیں لاتے ہیں ۔ اگر حکومت نے سبزیوں کے دام مقرر کئے ہیں اور دوسری جانب ان کی قیمتوں میں اضافہ ہواتویہ حکومت کا کام ہے کہ وہ ان سبزیوں کے نئے سرے سے دام مقرر کرے ۔ دکانداروں کو کس نے یہ حق دیا ہے کہ وہ از خود چیزوں کے دام مقرر کرکے لوگوں کی جیبیں کاٹتے رہیں ۔ ان کو ازخود قیمتوں میں اضافے کا کس نے اختیار دیا ہے یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے۔ مانا کہ جموں کشمیر سے باہر سبزیوں کے بھائو بڑھادئے گئے تو یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ یہاں سبزیوں کے دام اسی حساب سے مقرر کرے جس حساب سے ان کی قیمتیں بڑھادی گئیںلیکن یہاں کا بھاوا آدم ہی نرالا ہے یہاں پہلے دام مقررکئے جاتے ہیں اور پھر اسی حساب سے لوگوں کو لوٹا جارہا ہے ۔ اشیائے خوردنی کی قیمتوں کاتعین کرنے کےلئے جو افسر ذمہ دار ہیں ان کی کارکردگی کافی مایوس کن رہی ہے نہ قیمتیں مقرر کی جاتی ہیں اور نہ ہی مارکیٹ چکنگ کا عمل شروع کیاجاتا ہے بلکہ متعلقہ حکام اپنے دفاتر میں اس حوالے سے خاموش بیٹھے ہیں۔ کئی برس قبل تک بازاروں میں باضابطہ چکنگ ہوا کرتی تھی لیکن اب وہ سلسلہ ہی بند کردیا گیا۔ اگرچہ ان ریاستوں جہاں سے مال جموںکشمیر بھیجاجاتا ہے میں اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں اضافہ کیاجاتا ہے تو پھر یہاں کے ٹریڈرس کو فوری طور حکومت کو اس بارے میں آگاہ کرنا چاہئے تھا تاکہ حکومت بھی اسی حساب سے ان کی قیمتیں مقر ر کرتی لیکن تاجر از خود من مانے طریقے سے قیمتوں کا تعین کرکے لوگوں کےلئے بہت زیادہ مشکلات کھڑی کردیتے ہیں۔ کھانے پینے کی کوئی بھی چیز ہو اس کے دام کبھی بھی ایک جیسے نہیں رہتے ہیں۔ منافع کمانا تاجر کا حق ہے لیکن ناجائیز منافع کمانے والے کو سخت سزا دی جانی چاہئے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس بارے میں فوری طور پراقدام کرے اور لوگوں کو لوٹنے والوں کیخلاف سخت کاروائی کی جائے تاکہ دوسرے لوگ عبرت حاصل کرسکیں۔ آفتاب کو مختلف مکتب ہائے فکر کی طرف سے اس بارے میں شکایات موصول ہورہی ہیں جن میں کہا جارہا ہے کہ یہاں مہنگائی کے نام پر لوٹ مچا رکھی گئی ہے ۔ لیکن کوئی ان کو پوچھتا نہیں ۔ غریبوں کو اگر بچانا ہے تو ان کو مناسب داموں پر اشیائے خوردنی کی فراہمی یقینی بنائی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں