وادی میںپھر سے کووڈ کا پھیلائو

وادی میں کووڈ کی سنگین صورتحال کے پیش نظر حکومت نے جموں کشمیر کے تقریباًتمام ہسپتالوں کے علاوہ کئی پبلک ہیلتھ سنٹروں میں آکسیجن پلانٹ نصب کرنے کو منظوری دی ہے اور اس مقصد کےلئے ٹینڈر بھی طلب کئے گئے ہیں ۔ کہا جارہا ہے کہ کورونا وائیرس کے اثرات اور اس موذی مرض کو دیکھتے ہوئے 223کروڑ روپے کے منصوبے کےلئے ٹینڈر جاری کردئے گئے ہیں ۔ بتایا جاتا ہے کہ ٹینڈر جاری کرنے کے ساتھ ہی بولی موصول ہورہی ہے ۔ صحت و طبی تعلیم کے فائینانشل کمشنر اتل ڈولو کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر آکسیجن پلانٹ لگانے کےلئے کام لوگوں کو الاٹ کردئے جاینگے انہوں نے کہا کہ تقریباً37ہسپتالوں میں آیندہ چار مہینوں کے دوران آکسیجن پلانٹ نصب کئے جائینگے ۔ جہاں تک کورونا وائیرس کا تعلق ہے تو یہ وبا ئ اب پھر سے وادی میں زور پکڑنے لگا ہے اور جموں میں اب اس کے اثرات کم ہونے لگے ہیں لیکن وادی میں کورونا وائیرس تیزی سے پھیلنے لگا ہے جس پر اور تو اور طبی ماہرین بھی تشویش میں مبتلا ہونے لگے ہیں ۔ تازہ معاملات کا جائیزہ لینے پر معلوم ہوا ہے یہاں ایکٹو پازیٹو معاملات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لوگ اب نہ ماسک استعمال کرتے ہیں اور نہ ہی سماجی دوری کا خیال رکھتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں کورونا وائیرس تیزی سے پھر سے پھیلنے لگا ہے کیونکہ لوگ اب اس وبائ کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیتے ہیں ۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی وبائ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے بلکہ تیزی سے پھیل رہی ہے لیکن وادی میں لوگ اسے جس طرح نظر انداز کررہے ہیں اور احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرتے ہیں اس کا نتیجہ لازمی طور پریہی نکل سکتا ہے کہ یہ بیماری تیزی سے اپنے اثرات دکھا رہی ہے اور اگر لوگ اسی طرح بے احتیاطی اور لاپرواہی سے کام لینگے تو بیماری کے حوالے سے صورتحال مزید سنگین تر ہوتی جائے گی۔ ان حالات میں یہی ضروری ہے کہ لوگ پھر سے ماسکوں کا استعمال کرکے سماجی دوری برقرار رکھیں اور دوسری احتیاطی تدابیر برقرار رکھیں ۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان یقین دہانیوں کے بعد لاک ڈائون میں مسلسل نرمی کی جن میں تاجر ، صنعت کاروں ،ٹرانسپورٹروں اور دوسرے لوگوں نے اس بات کا یقین دلایا کہ وہ کسی کو بھی اپنی دکانوں ، کارخانوں ، کام کرنے کی جگہوں ، وغیرہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دینگے جنہوں نے ماسک نہیں پہنی ہو یا جو سماجی دوری کا خیال نہیں رکھتے ہوں۔ لیکن عملی طور پر اس کا مظاہرہ نہیں کیاجارہا ہے لوگ بغیر ماسک گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں۔ دکانوں اور شاپنگ مالز میں گھس کر شاپنگ کرتے ہیں اور کارخانوں اور فیکٹریوں کے علاوہ دوسری کام کرنے کی جگہوں پر نہ تو سماجی دوری اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی ماسکوں کا استعما ل کرتے ہیں اس کو دیکھتے ہوئے کووڈ کا پھیلائو نہیں ہوگا تو اور کیاہوگا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں