پانی اور بجلی کی فراہمی میں خلل دور کرنے کی ضرورت

 ابھی سرما شروع نہیںہوا اور ابھی سے پانی اور بجلی کی فراہمی میں خلل کا سلسلہ شروع ہوگیا جس سے اس بات کا اندازہ لگانے میں دیر نہیں ہوئی کہ سرما میں کیا ہوگا ۔شہر کا ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں سے پانی کی نایابی کی شکائیتیں موصول نہیں ہوتی ہیں ۔ ہر علاقے میں رہنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے اور جب یہ معاملہ واٹر ورکس حکام کے نوٹس میں لایا جارہا ہے تو وہ کوئی بھی کاروائی کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں ۔ گذشتہ دنوں ایک خبر رساں ایجنسی نے جب اس محکمے کے سربراہ یعنی چیف انجینئرکی توجہ اس جانب مبذول کروائی تو ان کا کہنا تھا کہ چونکہ موسم مسلسل خشک رہنے سے ندی نالوں میں پانی کی سطح کافی کم ہوگئی ہے یہی وجہ ہے کہ شہر میں پانی کی قلت محسوس کی جارہی ہے لیکن عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس سال گرمیوں میں بھی حالت اس سے بدتر تھی اور لوگ پانی کی بوند بوند کو ترستے رہے ۔ یہ صحیح ہے کہ موسم مسلسل خشک رہنے سے ندی نالوں میں پانی کی سطح کافی کم ہوگئی ہے لیکن محکمے کے پاس اتنے وسایل موجود ہیں کہ وہ پانی کی منصفانہ تقسیم کرسکے لیکن شاید ان وسایل کو بروے کار لانے میں نہ جانے کون سی مصلحتیں آڑے آرہی ہیں اس لئے ان کا استعمال نہیں کیا جارہا ہے اور نتیجے کے طورپرلوگوں کو پانی کی قلت کاسامنا کرنا پڑرہا ہے شام کو مختلف علاقوں میںلوگ بالٹین وغیرہ ہاتھوں میں لے کر پانی کی تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ خاص طور پر شہر کے بالائی علاقوں جن میں لال چوک ، بڈشاہ چوک وغیرہ شامل ہیں میں لوگوں کو بوند بوند کےلئے ترسایا جارہا ہے ۔ اسی طرح بجلی کا بھی یہی حال ہے ۔ لیفٹننٹ گورنر منوج سنہا نے گذشتہ دنوں این ایچ پی سی کے مختلف پروجیکٹوں پرپیش رفت کا تفصیلی جائیزہ لیا ۔ ایل جی کی مداخلت سے 850میگا واٹ نئے مشترکہ رتلے پن بجلی پروجیکٹ کو حتمی شکل دی گئی ہے جس کی تکمیل سے وادی میں بجلی کی پیداواری صلاحتیں کا فی حد تک بڑھ جاینگی اور خاص طور پرکوشش یہ کی جائے گی کہ سرمائی ایام میں لوگوں کو بجلی کی نایابی کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ اطلاعات کے مطابق 54,593کروڑ روپے کی لاگت سے 6,298میگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت یقینی بڑھ جائے گی ۔ اب لیفٹننٹ گورنر کو یہ یقینی بنانا ہے کہ سرمائی ایام میں وادی میں لوگوں کےلئے بجلی اور پانی کی فراہمی میں کوئی خلل نہ پڑ سکے اس وقت صورتحال انتہائی غیر یقینی ہے کیونکہ بجلی اور پانی دونوں کی قلت کا لوگوں کا سامنا ہے ۔ ہر طرف ہاہا کار مچی ہوئی ہے ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں وضو تک کےلئے پانی میسر نہیں۔محکمہ واٹر ورکس کے انجینئروںکو چاہئے کہ وہ پانی کی تقسیم کا منصفانہ اہتمام کرے تاکہ ہر علاقے میں لوگوں کو پانی کی فراہمی میں خلل کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں