کشمیری میں پراپرٹی ٹیکس کا نفاذ

 سرکردہ خبر رساں ایجنسی یو این آئی نے عوامی حلقوں کے حوالے سے کہا کہ کشمیر میں عاید کیاجانے والا پراپرٹی ٹیکس ہر صورت میں عوام کش اقدام کہاجاسکتا ہے اور اس کی جس قدر مذمت کی جاسکے کی جانی چاہئے ۔اس فیصلے نے کشمیر میں لوگوں کے دلوں میں اضطرابی کیفیت پیدا کردی اور وہ اس سوچ میں پڑگئے کہ وہ کس طرح پراپرٹی ٹیکس ادا کرسکتے ہیں ۔ مرکزنے بلدیاتی اداروں کو اس بات کا اختیار دیا کہ وہ لوگوں سے پراپرٹی ٹیکس وصول کریں ۔ یعنی شہر میں قیام پذیر لوگوں سے اب جائیداد ٹیکس وصول کیاجائے گا جبکہ کام کاج بالکل ٹھپ پڑا ہے ۔ ایک تو پانچ اگست 2019کے فیصلوں اور پھر کووڈ کی وجہ سے لوگ پہلے ہی زبردست اقتصادی بحران میں مبتلاہوچکے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ ان پر ٹیکس عاید کیا جارہا ہے ۔ جس کو کشمیری عوام نے سرے سے ہی مسترد کردیا ہے اور کہا کہ ان کےلئے کوئی بھی ٹیکس ادا کرنا ممکن نہیں ہے ۔ کیونکہ گذشتہ تیس برسوں کے دوران کشمیر نے ملی ٹینسی کو دیکھا ،2005میں تباہ کن زلزلے نے بھی پورے کشمیر کو ہلا کر رکھ دیا ۔سال 2008سے سال 2010تک ایجی ٹیشن کی وجہ سے کئی سو کشمیری نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ،سال 2014کے تباہ کن سیلاب نے تو کشمیریوں کی رہی سہی کسر پوری کردی اور پورا کشمیر اقتصادی طور پر تباہ و برباد ہوگیا ۔سال 2016میں بھی ایجی ٹیشن چھ سات مہینوں تک جاری رہی اور اس دوران کئی سو کشمیری جاں بحق ہوئے پھر سال 2019اگست 5کوتو کشمیر کا سارا نقشہ ہی تبدیل کرکے رکھ دیا گیا اور پھر روان سال 17مارچ سے کووڈ نے پورے کشمیر میں تہلکہ مچادیا ۔ غرض گذشتہ تیس برسوں کے دوران ملی ٹینسی کے ساتھ ساتھ دوسرے ایسے واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے کشمیر میں پورا اقتصادی نظام تباہ و برباد ہوکر رہ گیا خاص طور پر ٹوارزم سیکٹر تو زمین بوس ہوگیا جن لوگوں کا روزگار سیاحت سے براہ راست جڑا ہواتھا وہ بری طرح بے روزگار ہوگئے انہوں نے ہوٹلوں ، ہاوس بوٹوں ، شو رومز ،ہینڈی کرافٹس کے سٹال نصب کرنے اور سیاحت سے جڑے دوسرے کاروبار میں عمر بھر کی جمع شدہ پونجی لگائی تھی۔ لیکن بدلے میں ان کو کچھ نہیں ملا بلکہ انہوں نے کاروبار میں جتنا پیسہ لگایا تھا وہ ختم ہوگیا اور وہ ہاتھ ملتے رہ گئے ان حالات میں لوگ کس طرح ٹیکس ادا کرسکتے ہیں ۔ یہاں کئی لاکھ پڑے لکھے نوجوان بیروزگاری کی چکی میں پسے جارہے ہیں۔ ان کے والدین نے بنکوں سے یا دوست احباب سے بھاری قرضے لے کر اپنے بچوں کی پڑھائی پر خرچ کیا اب وہ کس طرح پراپر ٹی ٹیکس ادا کرسکتے ہیں ۔ جب حکومت نے کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کی تو اس وقت وعدہ کیا گیا کہ کشمیریوں کی اقتصادی حالت بہتر بنانے کےلئے مرکزی سرکاری ہر مثبت قدم اٹھائے گی لیکن اس وقت سب کچھ اس کے الٹ کیاجارہا ہے ۔ لوگوں کو رعایات ، مراعات اور سہولیات دینے کے بجائے ان پر ٹیکسوں کا بوجھ لادنا کہاں کا انصاف ہے ؟

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں