سرینگر جموں شاہراہ پرنئی ٹریفک ایڈوائیزری

اب تک متعدد مرتبہ ان ہی کالموں میں سرینگر جموں شاہراہ یعنی NH44کے بارے میں لکھا جاچکا ہے کہ اس کی حالت اب دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے کیونکہ یہ ٹریفک کا موجودہ دبائو برداشت نہیں کرسکتی ہے چنانچہ مناسب متبادل نہ ہونے کے نتیجے میں اس پراس قدر ٹریفک چلتا ہے کہ ایک منٹ کےلئے بھی گاڑیوں کی آمد و رفت کم نہیں ہوتی ہے ۔ کہاجارہا ہے کہ رات کو بھی گاڑیاں اس پر چلتی رہتی ہیں جو مجبوری ہے کیونکہ اگر سپلائی رک گئی تو وادی میں بحرانی کیفیت پیدا ہوجائے ۔ ریلوے لائین بچھانے میں ابھی بھی تساہل پسندی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔ اگرچہ جموں اور سرینگر کے درمیان ریلوے لائین مکمل ہونے کےلئے اگست 2022کی ڈیڈ لائین مقرر کی گئی ہے لیکن جس رفتار سے اس پر کام ہورہا ہے لگتا ہے کہ ریلوے لائین کی تکمیل کےلئے مزید ڈیڈ لائنیں مقرر کرنے کی ضرورت پڑسکتی ہے ۔ دوسری جانب مغل روڈ کی حالت بھی اب ایسی نہیں رہی کہ اس پر آسانی سے گاڑیوں کی آمد ورفت چالو رکھی جاسکے ۔ متعلقہ حکام نے پہلے ایک ایڈوائیزری جاری کردی جس میں بتایا گیا کہ 15اور 16اکتوبر کو سرینگر جموں شاہراہ گاڑیوں کی آمد ورفت کےلئے بند رہے گی لیکن اب کل یعنی 14اکتوبر کو ایڈیشنل ڈائیریکٹر جنرل پولیس ٹریفک کی طر ف سے ایک ایڈوائیزری جاری کردی گئی جس میں کہا گیا کہ 16اکتوبر سے 30نومبر تک سرینگرجموں شاہراہ ہر ہفتے جمعہ کو بند رہا کرے گی ۔ ایڈوائیزری میں کہا گیا کہ یہ سب کچھ شاہراہ کی تجدید و مرمت کےلئے کیا گیاتاکہ آنے والے سرما میں سڑک پر ٹریفک جاری رکھا جاسکے ۔ فوجی کانواے کےلئے بھی ایڈوائیزری جاری کردی گئی جس میں کہا گیا کہ فوج کو بھی اس ایڈوائیزری پر عمل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ا س سے شاہراہ کو چست درست رکھنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ ایڈوائیزری میں کہا گیا کہ ان دنوں مغل روڈ سے صرف مال بردار گاڑیوں کو چلنے کی اجازت ہوگی ۔ کوئی بھی مسافر بردار گاڑی یا کوئی بھی شخص جو پیدل چل رہاہو کو مغل روڈ پر پیدل چلنے کی بھی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ سرکاری ایڈوائیزری سے اس بات کا بخوبی پتہ چل سکتا ہے کہ شاہراہ کی حالت کس قدر ابتر ہوسکتی ہے ۔ اس کا واحد حل اب یہی ہے کہ ریلوے لائین کو جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے۔ کیونکہ اس سے شاہراہ پر دبائو میں تقریباً80فی صد کمی ہوسکتی ہے ۔جب ایسا ہوگا تو اس سے شاہراہ کی عمر بھی بڑھ سکتی ہے اور اس کی حالت ایسی ابتر نہیں ہوسکتی ہے جس قدر اس وقت ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ شاہراہ کی تجدید و مرمت کے ساتھ ساتھ ریلوے لائین پربھی کام کی رفتار بڑھائی جانی چاہئے تاکہ وادی کا بیرون ملک سے ہوائی رابطے کے ساتھ ساتھ زمینی رابطہ سال بھر چالو رہ سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں