ایکسٹرا جوڈیشل قتل کوعدالت کیسے روک سکتی ہے :سپریم کورٹ

نئی دہلی، 14 اکتوبر âیو این آئیá سپریم کورٹ نے ملک میں ایکسٹرا جوڈیشل قتل پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت سے متعلق عرضی بدھ کے روز خارج کر دی۔ چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی صدارت والی تین رکنی بینچ نے نریندر کمار گرگ کی عرضی یہ کہتے ہوئے خارج کر دی کہ ایکسٹرا جوڈیشیل قتل کو کیسے روکا جا سکتا ہے ؟ جسٹس بوبڈے نے عرضی گذار کی جانب سے پیش جتیندر ایم شرما نے کہا کہ عدالت اس بات سے اتفاق کر تی ہے کہ اسے روکا جانا چاہیے ، لیکن وہ کیسے ایکسٹرا جوڈیشیل قتل کو روک سکتی ہے ؟ قیدیوں کو ہتھکڑی لگائے جانے یا نہ لگائے جانے کے مسئلے پر مسٹر شرما نے سپریم کورٹ کے پرانے فیصلے کا ذکر کیا لیکن چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ قیدی خطرناک ہوتے ہیں اور انہیں ہتھکڑی لگانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملزم پولیس پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے اور ویسے ملزم کو ہتھکڑی لگانے یا نہ لگانے کے بارے میں مجسٹریٹ اس ملزم سے پوچھے گا، کوئی بے وقوف ملزم ہی کہے گا کہ اسے ہتھکڑی لگائی جائے ۔ عدالت نے متعلقہ عرضی خارج کر دی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں