’’پیپلز الائنس ‘‘کے مطالبات بھارتی آئین سے باہر نہیں : حسنین مسعودی - ہمارا سب سے بڑا مطالبہ غیر آئینی فیصلوں کی واپسی

یو این آئی : سرینگر/نیشنل کانفرنس لیڈر و رکن پارلیمان جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے کہا کہ 'پیپلز الائنس' کے مطالبات بھارتی آئین سے باہر نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الائنس کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ پانچ اگست 2019 کو اٹھائے گئے 'غیر آئینی' فیصلے واپس لئے جائیں۔حسنین مسعودی نے جمعے کو یہاں پارٹی کی ایک تقریب کے حاشیے پر نامہ نگاروں کو بتایا: 'گپکار ڈیکلریشن کا نام تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔ جو جماعتیں 4 اگست 2019 کو جمع ہوئی تھیں انہوں نے عوامی اتحاد کے نام سے ایک نیا پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے'۔ انہوں نے کہا: 'ہمارے جتنے بھی مطالبے اور مقاصد ہیں وہ آئین کے اندر ہیں۔ ہمیں خصوصی پوزیشن 1947 میں دی گئی تھی۔ یہ ہمیں آئین کے تحت حاصل تھی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ پانچ اگست 2019 کو اٹھائے گئے غیر آئینی فیصلے واپس لئے جائیں۔ یعنی چار اگست کی پوزیشن بحال کی جائے'۔ حسنین مسعودی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے لئے مکمل خودمختاری کی وکالت کرتی آئی ہے اور اس کے لئے بھی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کا کہنا تھا: 'پھر ہر ایک جماعت کے اپنے اپنے اہداف ہیں۔ نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے لئے مکمل خودمختاری چاہتی ہے۔ یہ خودمختاری ہم 1952 کے دہلی اگریمنٹ کے تحت چاہتے ہیں'۔ واضح رہے کہ گپکار اعلامیے کے دستخط کنندگان نے جمعرات کو 'پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن' نامی پیلٹ فارم تشکیل دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ پلیٹ فارم جموں و کشمیر میں چار اگست 2019 کی پوزیشن کی بحالی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کام کرے گا۔جموں و کشمیر/ جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کی خصوصی پوزیشن کی منسوخی کے زائد از 14 ماہ بعد گپکار اعلامیے کے دستخط کنندگان، بجز جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر غلام احمد میر، کی جمعرات کو یہاں نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی گپکار رہائش گاہ پر پہلی میٹنگ ہوئی۔قریب ڈیڑھ گھنٹے تک چلنے والی اس میٹنگ کے بعد فاروق عبداللہ نے سبھی دستخط کنندگان کی موجودگی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ 'پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن' پانچ اگست 2019 کو جموں و کشمیر کے لوگوں سے چھینے گئے حقوق کی بازیابی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بامعنی مذاکرات شروع کرانے کے لئے کام کرے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں