ہم انتظار کریں گے، کوئی حکومت ہمیشہ نہیں رہے گی:عمرعبداللہ

 آرٹیکل 370ہماری لڑائی سپریم کورٹ میں ہے

جے کے این ایس : سرینگر/سابق وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے دفعہ370کی بحالی کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کاعزم ظاہر کرتے ہوئے کہاہے کہ ہماری لڑائی سپریم کورٹ میں ہے اورہم عدالت عظمیٰ کے فیصلے کاانتظار کریں گے ،تاہم ساتھ انہوں نے خصوصی آئینی پوزیشن کی واپسی کومرکزمیں حکومت کی تبدیلی سے جوڑتے ہوئے کہاکہ ہم انتظار کریں گے، کوئی حکومت ہمیشہ نہیں رہے گی۔ ایک انٹرویو کے دوران سابق وزیراعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبداللہ کاکہناتھاکہ آرٹیکل 370 کے لئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ ہماری لڑائی سپریم کورٹ میں ہے۔عمرعبداللہ نے خصوصی آئینی پوزیشن کی واپسی کومرکزمیں حکومت کی تبدیلی سے جوڑتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی حکومت ہمیشہ کےلئے نہیں رہتی۔ ہم انتظار کریں گے۔ ہم نہیں مانیں گے۔/ جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے’انڈیا ٹوڈے‘کو دئیے گئے انٹرویو میں نے کہا کہ ہم اپنے حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے خلاف پہلے بھی آواز اٹھائی تھی اور آج بھی اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مرکز کا فیصلہ ریاست (جموں وکشمیر)کے لوگوں کے مفاد میں نہیں ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ گپکار اعلامیہ میں شامل لیڈروں کی میٹنگ4، اگست2019 کو شروع ہوا ایک سلسلہ ہے۔ اورجمعرات کوہم اسے ایک مناسب نام اور ایک واجب ایجنڈا دینے کےلئے ملے ۔ انہوں نے بھاجپالیڈروں کی تنقید کے تناظعمیں کہاکہ یہ موقع پرست گٹھ بندھن (اتحاد)نہیں ہے لیکن یہ سیاسی ہے،اور اسے آپ سماجی گٹھ بندھن نہیں کہہ سکتے۔عمر عبداللہ نے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کو ایک بار پھر غیر آئینی قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر آئینی اور غیر قانونی طور پر ہم سے جو چھین لیا گیا تھا، اسے واپس پانے کا یہ ایک آئینی اور پرامن طریقہ ہے۔ چین کے جموں وکشمیر سے متعلق دئیے گئے حالیہ بیان پر عمر عبداللہ نے طنز بھرے لہجے میں کہا کہ کیا یہ آرٹیکل 370 چین کی مدد سے واپس آ جائے گا؟ یہ تو بی جے پی ترجمان کا فارمولا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں