کشمیری دستکاری مصنوعات کیلئے آن لائین خریداری

دکانوں ،شوروموں اور نمایشوں میں جاکر خرید و فروخت کے روایتی طریقہ کار میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب لوگ دکانوں میں بھی جاتے ہیں اور آن لائین خریداری بھی کرتے ہیں کیونکہ موبایل ہاتھ میں ہے اور اس میں طرح طرح کی چیزوں کے بارے میں تفصیلات کا سمندر ہے اس سے لوگوں کو اپنی پسند کی چیز خریدنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی ہے ۔ آرڈر کرنے پر وہ چیز گھر پر پہنچ جاتی ہے پسند آئے تو ٹھیک نہیں تو اسی وقت یہ چیز وہ واپس بھیجی جاسکتی ہے ۔ اگرچہ ا سوقت اس طرح کی خریداری بڑے پیمانے پر نہیں ہوتی ہے پھر بھی لوگ اب اس کو پسند کرنے لگے ہیں ۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت جموں کشمیر نے مقامی ہینڈلو م اور ہینڈی کرافٹس کی ترقی کےلئے معروف ای کامرس کمپنی فلپ کارٹ سے معاہدہ کیا ہے اس سے یہ فایدہ ہوا ہے کہ فلپ کارٹ کی خصوصی ویب پورٹل سمارتھ پر اب جموں کشمیر کی دستکاری مصنوعات کی بھی نمایش ہوگی ۔ یعنی اگر کوئی کشمیری مصنوعات کی خرید و فروخت میں دلچسپی رکھتا ہو تو اسے ادھر اُدھر جانے کی ضرورت نہیں گھر پر بیٹھے ہی وہ کشمیری دستکاری مصنوعات خرید سکتا ہے اور وہ بھی مناسب ریٹ پر ۔ اس قدم سے کشمیری دستکاری مصنوعات کی فروخت اور کیٹلاگنگ میں مثبت تبدیلی لائی جاسکتی ہے ۔ اس سلسلے میں سرکاری طور پر جو جانکاری دی گئی اس میں بتایا گیا کہ کشمیری دستکاروں، کاریگروں اور بنکروں کو کووڈ 19کے بحران کے دوران انہیں مدد فراہم کرنے کےلئے یہ قدم اٹھایا گیا جس سے دستکاروں اور بنکروں کو آن لائین خرید و فروخت کے مواقعے مل سکتے ہیں ۔ اس سے کشمیری دستکاری مصنوعات کو لاکھوں گاہکوں تک آن لائین رسائی مل سکتی ہے جس سے یہ فایدہ مل سکتا ہے کہ کاریگروں کو اپنا مال فروخت کرنے کےلئے کسی کے پیچھے پیچھے نہیں چلنا پڑے گا ۔ اس سلسلے میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں فلپ کارٹ کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوئے ۔ اس اقدام سے وادی کے دستکاروں ، ہنر مندوں اور کاریگروں کو بے شک فایدہ ہوسکتا ہے بشرطیکہ حکومت اس بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کرے اور کاریگر بھی اپنے بہترین ہنر کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلپ کارٹ کو مال فراہم کریں ۔ زمانہ بدل گیا ہے روایتیںبھی بدل گئی ہیں ہر چیز کے طور طریقے بدل گئے ہیں جن چیزوں کے بارے میں ہم تصور بھی نہیں کرسکتے تھے وہی کچھ آج وقوع پذیرہو رہی ہیں۔ کمپوٹر نے پوری دنیا کو انقلاب سے دوچار کردیا ہے۔ اب ہر چیز آن لائین دستیاب ہے اور ان حالات میں اگر کشمیری دستکاری مصنوعات کی خریداری بڑھے گی تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اس سے کشمیری کاریگروں کو ہی فایدہ مل سکتا ہے ۔جو زمانے کی چوٹ کھائے ہوئے ہیں ۔ کیونکہ وادی میں اب سیاحتی سیزن پوری طرح ٹھپ پڑا ہے اس سیکٹر سے وابستہ لوگ جن میں ہوٹل مالکان ، ہاوس بوٹ مالکان ، ٹرانسپورٹرس ، دستکاری مصنوعات کا کاروبار کرنے والے لوگ ، شوروم مالکان وغیرہ وغیرہ سب پریشان حال ہیں اور اگران کو اس صورتحال سے نکالنے اور ان کو روزگار کی فراہمی کےلئے کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو ان کو چاہئے کہ وہ اس کا بھر پور انداز میں خیرمقدم کریں اور خود کو روزگار کے حوالے سے نئی تبدیلیوں سے ہمکنار کرنے کےلئے تیار رہیں ۔ اسی میں ان کی بھلائی کا راز مضمر ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں