مدار میں روسی سیٹلائٹ اور چینی راکٹ کے پرزے تصادم سے بال بال بچ گئے

سرینگر/ 16اکتوبر/ مانٹرنگ/ خلا میں ریڈار کی مدد سے اشیا کا مشاہدہ کرنے والی ایک کمپنی کے مطابق ایک ناکارہ روسی سیٹیلائٹ اور ایک چینی راکٹ کے پرزے ایک دوسرے کے انتہائی قریب سے گزرے ہیں اور ایک دوسرے سے ٹکراتے ٹکراتے رہ گئے۔ لیو لیبز نے کہا تھا کہ ممکنہ طور پر ایک دوسرے سے 25 میٹر کے فاصلے پر گزرے۔ لیو لیبز کا کہنا ہے کہ اینٹارکٹکا کے اوپر ان کے باقیات کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیے۔ دیگر ماہرین کا خیال تھا کہ کوسموس - 2004 اور شینگ یینگ راکٹ اچھے خاصے فاصلے سے گزریں گے۔ ان دونوں مشینوں کا مجموعی وزن دو اعشاریہ پانچ ٹن ہے اور یہ 14 اعشاریہ چھ کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار پر دنیا کے گرد چکر کاٹ رہے ہیں۔ اگر یہ دونوں آلات آپس میں ٹکرا جاتے تو زمین پر ملبے کی بارش ہو سکتی تھا جس سے جانی اور مالی نقصان کا خطرہ تھا۔ کیونکہ یہ سطح سمندر سے ایک ہزار کلومیٹر کی بلندی پر موجود تھے، اس لیے ان کے تصادم کے باعث پیدا ہونے والے ذرّات ایک لمبے عرصے تک خلا میں موجود رہ سکتے تھے اور ان کے باعث مدار میں موجود دیگر سیٹیلائٹس کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔ لیو لیبز دراصل سیلیکون ویلی کا ایک سٹارٹ اپ ہے جو خلا میں موجود ناکارہ اور کارآمد سیٹیلائٹس اور راکٹس کے مدار کا اپنے ریڈار نیٹ ورک کے ذریعے مشاہدہ کرتا ہے۔ آسٹن میں یونیورسٹی آف ٹیکساس سے وابستہ ڈاکٹر موریبا جاہ کے مطابق دونوں آلات کے درمیان فاصلہ محض 70 میٹر تھا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں