ولر میںمچھلیوں اور سنگھاڑے کی پیداوار خطرات سے دوچار، متعلقہ محکمہ خوابِ خرگوش میں

ہندوارہ /عازم جان /شہرہ آفاق جھیل ولر میں مچھلیوں اور سنگھاڑے کی پیداوار بتدریج گھٹ رہی ہے ولر جھیل کے کنارے رہائش پذیر75ہزار ماہی گیر  سنگھاڑہ کشاں روزگار سے محروم ہورہے ہیں ڈپٹی کمشنر بانڈی پورہ دفتر کے صحن میں ماہی گیر اور سنگھاڑہ کشاں ایسوسی ایشن کے صدر محکمہ فشریز اور ضلع انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے بتایا ہے کہ ولر جھیل میں سطح آب روز بروز کم ہورہی ہے جس کی  وجہ سے بعض عناصر قانون کی دھجیاں اڈا کر نیٹ جال ودیگر غیر قانوناستعمال کررہے ہیں ان غیر قانونی حربوں سے مچھلیوں کی پیداوار میں نمایاں کمی ہورہی ہے اور سنگھاڑے کا فضل بھی بری طرح سے متاثر ہورہا ہے  ضلع صدر نے بتایا ہے کہ محکمہ فشریز بانڈی پورہ کے افسران سے ہم نے گھمبیر صورتحال کے متعلق  متعدد بار وفد کی صورت میں رجوع کیا ہے اور اپیل کی ہے کہ ولر جھیل میں ہورہی خلاف ورزیوں پر قدغن لگا دیں لیکن محکمہ فشریز کے ملازمین خلاف ورزی کرنے والے عناصر سے نمٹنے میں ناکام ہورہے ہیں۔
ملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ولر جھیل تباہی کے دہانے پر پہنچا ہوا ہے ماہی گیر اور سنگھاڑہ کشاں ایسوسی ایشن نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سہنا سے مطالبہ کیا ہے کہ جھیل ولر میں مچھلیوں ودیگر پیداوار کو محفوظ رکھنے کے لیے اثر دار قدم اٹھانے اور محکمہ فشریز میں سدھار لائیں

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں