لداخ میں ایل اے سی پر صورتحال کشیدہ :وزیر خارجہ

بھارت نے فوج واپس نہیں بلائی توسخت کارروائی کی جائےگی :گلوبل ٹائمز

اے پی آئی مانیٹرنگ : سرینگر/چین کی جانب سے مشرقی لداخ میں بڑے پیمانے ہراسلحہ اور بڑی تعداد میں فوج پہنچانے پروزیرخارجہ نے کہاکہ 25برسوں کے دوران دونوں ممالک کے مابین مضبوط مستحکم رشتوں میں دراڈپیدا ہوگئی ہے اور 1975کے بعد/ جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
پہلی بارفوجی جوانوں کی ہلاکتوں کاواقع بھی رونماءہوا تاہم بھارت کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور چین کی شرارتوں کوبرداشت نہیں کیاجائےگا ۔ادھرچینی سرکاری اخبار نے لکھا کی اگربھارت نے مشرقی لداخ سے اپنی فوج واپس نہیں بلائی توسکم کوبھارت سے علیحدہ کرنے میں کوئی بھی پس وپیش نہیں کیاجائےگا ۔ لداخ کے معاملے پر وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کئی دنوں کے بعد اپنی چپی توڑتے ہوئے کہاکہ مشرقی لداخ میں صورتحال انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے چین نے نہ صرف اسلحہ کے بنڈار لائن آف ایکچول تک پہنچ دیئے ہے بلکہ فوج کی تعیناتی میں بھی بے پناہ اضافہ کردیاہے جس سے صورتحال تشویشنا ک بنی ہوئی ہے ۔وزیرخارجہ نے کہا کہ 25برسوں سے دونوں ممالک کے مابین مضبوط رشتوں میں دراڑپید اہوگئی ہے اور1975کے بعدپہلی بارفوجی جوانوں کی ہلاکتوں میں بھی اضافہ ہوہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ اگرچہ بھارت کسی بھی طرح کے چلینج کامقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے اور چین کی شرارتوں کوناقابل برداشت تصورکررہاہے پھربھی بھارت مسئلے کوبات چیت کے ذریعے حل کرنے کے اپنے وعدے پرقائم ہے ۔ادھر بیجنگ سے شائع ہونے والے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے انکشاف کیاہے کہ اگربھارت نے مشرقی لداخ سے اپنی فوج واپس نہیں بلائی توچین بھارت کے خلاف کارروائی عمل میں لانے سے گریزنہیں کریگا ۔سرکاری اخبارنے ایک نمائندے کے حوالے سے لکھا ہے کہ بھارت کی ریاست سکم کوعلیحدہ کیاجائےگا جبکہ اروناچل پردیش کو پہلے ہی چین نے اپناخطہ ظاہر کیاہے ۔بھارت کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پرچین نے فوجی نقل وحرکت میں بے تحاشہ اضافہ کردیاہے ۔     

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں