حکومت ِ ہند کا اہم اقدام ،جموں و کشمیر پنچایتی راج قانون 1989 میں ترمیم

 ضلع ترقیاتی کونسلوں کے قیام کی راہ ہموار ہرضلع 14علاقائی انتخابی حلقوں میں تقسیم ہوگا،ارکان کاانتخاب الیکشن کے ذریعہ ہوگا

جے کے این ایس : سرینگر/حکومت ِ ہند نے ایک اہم اقدام کے تحت جموں وکشمیر میں ضلع ترقیاتی کونسلوں کاقیام عمل میں لانے کیلئے جموں و کشمیر کے پنچایتی راج قانون 1989 میں ترمیم کی ہے۔جموں وکشمیر ہر ضلع کو ارکان کا انتخاب عمل میں لانے کےلئے 14 علاقائی انتخابی حلقوں میں تقسیم کیا جائےگا۔ ج مرکزی سرکار کی جانب سے جاری جموں وکشمیر تنظیم نو (ریاستی قوانین کی اصلاح) کے چوتھے آرڈر ، 2020 کے مطابق ، ہر ضلع کےلئے ایک ضلعی ترقیاتی کونسل ہوگی۔ ترقیاتی کونسل کادائرہ پورے ضلع ماسوائے قانون / جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
کے تحت تشکیل دی گئی میونسپلٹی یا میونسپل کارپوریشن پرہوگا۔ضلعی ترقیاتی کونسل میں ضلع کے علاقائی حلقوں سے براہ راست منتخب ممبران ، قانون ساز اسمبلی کے ممبران اور ضلع کی تمام بلاک ڈیولپمنٹ کونسلوں کے چیئرپرسن شامل ہوتے ہیں۔جموں و کشمیر کی پنچایت میں وزارت داخلہ امور کی طرف سے کی جانے والی ترامیمکے مطابق ضلعی ترقیاتی کونسل کے تمام اراکین ، خواہ ضلع کے علاقائی انتخابی حلقوں سے براہ راست انتخابات کے ذریعے منتخب ہوں یا نہ ہوں ، کوضلعی ترقیاتی کونسل کے اجلاس میں ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہو گا۔لیکن چیئرمین یا وائس چیئرمین کے انتخاب یا ہٹانے کی صورت میں ممبران اسمبلی کو رائے دہندگی یعنی ووٹ ڈالنے کا کوئی حق نہیں ہوگا بلکہ صرف براہ راست منتخب ہوئے ممبروں کو ہی ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہوگا۔جموں و کشمیر کے پنچایتی راج قانون 1989 میں کی گئی ترامیم کے مطابق ، ہر ضلعی ترقیاتی کونسل میں قائمہ کمیٹی برائے خزانہ، قائمہ کمیٹی برائے ترقی؛ قائمہ کمیٹی برائے پبلک ورکس؛ قائمہ کمیٹی برائے صحت و تعلیم اورقائمہ کمیٹی برائے بہبودہواکرے گی۔ ترامیم میں مزید کہا گیا ہے کہ ہر ضلع میں ، ضلع کی نمائندگی کرنے والے ممبران پارلیمنٹ ، ضلع کے اندر موجود علاقوں کی نمائندگی کرنے والی ریاستی قانون ساز اسمبلی کے ممبر ، ضلع کی ضلعی ترقیاتی کونسل کے چیئرپرسن ، اس کے چیئرپرسن پر مشتمل ایک ضلعی منصوبہ کمیٹی ہوگی۔ ٹاون ایریا کمیٹیاں ،ضلع کی میونسپل کمیٹیاں ، میونسپل کونسل،میونسپل کارپوریشن کے صدر ، اگر کوئی ہو تو ، ضلعی ترقیاتی کمشنر ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمشنر ، ضلعی شماریات اور تشخیص افسر ، چیف پلاننگ آفیسر ، تمام ضلعی سطح کے افسران اس کے عہدے پر فائز ہوں گے، کمیٹی کے ممبران ہونگے۔ جموں و کشمیر کے پنچایتی راج قانون 1989 میں کی گئی ترامیم میں یہ کہاگیاہے کہ ضلع یاعلاقہ کے منتخب ممبر پارلیمنٹ کمیٹی کا چیئرپرسن ہوگا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں