اراضی سے متعلق قانون کشمیریوں کےلئے نا قابل قبول بات چیت کے ذریعے لوگوں کا اعتماد بحال کیاجائے؍ایم ایم انصاری

اے پی آ ئی : سر ینگر/ مرکزی حکومت کی جا نب سے جموں وکشمیر میں پانچ اگست 2019کولئے گئے فیصلے کوزبردستی کی شادی قرار دیتے ہوئے سابق مزاکرات کار نے حکومت ہندکومشورہ دیا کہ وہ ضد ہڑدھرمی اور آرایس ایس کاایجنڈا چھوڑ کر جمہوریت کی بقا اورکشمیریوں میں اعتمادپیدا کرنے کے لئے حالات کوساز گار بنائے اور بات چیت کوشروع کرے زبردستی ٹھونسے جانے والے فیصلو ںکی عوام کے پاس کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے خاموشی کسی بڑے انقلاب کی نشانی ہوا کرتی ہے ۔ایک ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ گفتگو کے دوران سابق مزاکراتکار ایم ایم انصاری نے نیو لینڈ لاءکے علاوہ پانچ اگست2019جموں وکشمیرکے خصوصی درجے کامرکزی حکومت کی جانب سے منسوخ کرنے کی کاروائی زبر دستی کی شادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ آنجہانی اٹل بہاری واجپائی نے اپنے دوراقتدار میں ماحول کوسازگار بناکر جموں کشمیرکے لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے کی ایک راہ اپنائی تھی موجودہ مرکزی حکومت کواسی راہ پرگامزن ہوناہوگا ۔انہوںنے وزیراعظم ہندنریندر مودی کومشورہ دیاکہ وہ ایک خاص ایجنڈے کے مطابق سوچناچھوڑ دے اور جمہوری مزاج کواپناکرفیصلے لیاکرے زبردستی کی شادی کئی دنوں تک ضرورکامیاب رہتی ہے لیکن اس سے گھرکاماحول نہ صرف بگڑجاتاہے بلکہ میاںبیوی کے درمیان ہمیشہ ایک خلیج قا ئم رہتی ہے جوپاٹی نہیں جاسکتی ہے اور نوبت طلاق تک(باقی صفحہ ۱۱ پر)
 پہنچ جاتی ہے ۔سابق مزاکرتکار نے حکومت کومشورہ دیا کہ وہ جموں و کشمیرکے سٹیک ہولڈروں کے ساتھ بات چیت کرے پھرجو وہ فیصلے لینے ہےں حکومت اس کےلئے آزادہے دفعہ 370اور 35Aکومنسوخ کرنے کی کارروائی کوانہوں ے جموں کشمیرکے لوگوں کے جزبات واحساسات کے برعکس قراردیتے ہوئے کہاکہ اس س نئی دہلی اور کشمیرکے مابین فاصلے بڑھ گئے ہے 30اکتوبر 2019کو جوقوانین نافذ کئے گئے ہے ان میں برابرترمیم کر کے نئے قوانین نافذ کئے جاتے ہےں اور یہاں تک کہ اب ملک کے ہرشہری کو جموں وکشمیر میں جائیداد خریدنے کی جواجازت دی گئی ہے اس نے جموں کشمیرکے تینوں صوبوں میں رہنے والے لوگوں کے اندر خدشات پیدا کئے ہے اور مرکزی حکومت ان خدشات کودور نہیں کرسکتی ہے  

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں