گپکار روڑ سیل : ڈاکٹرفاروق عبد اللہ کو درگاہ حضرت بل جانے کی اجازت نہیں دی گئی

نمازِ جمعہ ادا کرنے سے روکنا مذہبی آزادی سلب کرنے کے مترادف: علی محمد ساگر- کاروائی مداخلت فی الدین :پیپلز الائنس

کے این ایس : سرینگر � نیشنل کانفرنس نے الزام عائد کرتے ہوئے جمعہ کو کہا ہے کہ پارٹی کے صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کی رہائش گاہ واقع گپکار روڑ کو محاصرے میں لیکر اسے درگاہ حضرت بل جانے سے روکا گیا ہے جہاں اسے عید میلاد النبی ﷺکے موقع پر نماز ادا کرنی تھی۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق اس سلسلے میں پارٹی کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کو بند کیا ہے اور انہیں درگاہ جانے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔پارٹی نے انتظامیہ کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔پارٹی نے انتظامیہ کے اس اقدام کو بنیادی حقوق کی پامالی سے تعبیر کیا ہے۔انہوں نے کہا’ڈاکٹر فاروق صاحب ایک امن پسند عوامی لیڈر اور منتخب رکن پارلیمان ہیں اور عید میلاد النبی (ﷺ) کے موقع پر ہمیشہ حضرت بل میں نماز ادا کرتے ہیں۔ ایسی شرمناک حرکات سے صرف جموں و کشمیر انتظامیہ اور اس کے آقاوں کی بدنامی ہوجاتی ہے۔‘اس دوران پی ڈی پی صدر اور عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کی نائب صدر محبوبہ مفتی نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو حضرت بل جانے سے روکنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ہمارے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا’عید میلاد النبی کے موقع پر فاروق صاحب کو حضرت بل جانے سے روکنے سے حکومت ہند کا جموں و کشمیر (باقی صفحہ ۱۱ پر)
کے تئیں سخت اپروچ روا رکھنے کا عزم واضح ہوجاتا ہے۔ یہ ہمارے حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے اور قابل مذمت ہے‘۔ قابل ذکر ہے کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ بڑے دنوں کے موقعوں پر ہمیشہ درگاہ حضرت بل میں حاضر ہو کر نماز ادا کرتے ہیں۔اس دوران عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کی طرف سے نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو جمعہ کے روز نماز ادا کرنے کے لئے حضرت بل جانے سے روکنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔اتحاد کے ترجمان اور پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد غنی لون نے اپنے ایک بیان میں انتظامیہ کی اس حرکت کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے کہا ’ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں‘۔انہوں نے کہا’ڈاکٹرفاروق عبداللہ صاحب کو عید میلاد النبی (ص) کی مناسبت سے حضرت بل ایک مذہبی اجتماع میں شرکت کرنے کے لئے جانا تھا لیکن انہیں گھر سے باہر نہیں جانے دیا گیا‘۔ادھرپارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے انتظامیہ کے اس اقدام کو غیر قانونی اور بلا جواز قرار دیا اور کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو مذہبی فرائض ادا کرنے سے روکنا مذہبی آزادی سلب کرنے کی ایک بدترین مثال ہے۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ نمازِ جمعہ حضرت بل میں ادا کرنا ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا معمول ہے اور وہ ہر سال عید میلادالنبی پر درگاہ پر حاضری دیتے تھے اور آج بھی حسب قدیم اُن کا حضرتبل میں ہی نماز ادا کرنے اور حاضری دینے کا پروگرام تھا تاہم انتظامیہ نے اُن کے گھر کے سامنے بندشیں عائد کرکے انہیں گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی۔ ساگر نے کہا کہ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس انتظامیہ کے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے اور نماز کی ادائیگی سے روکنے کی کارروائی کو مذہبی آزاد سلب کرنے کے مترادف قرار دیتی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں