قاضی گنڈ میں بھاجپاکارکنوں کی ہلاکت - جنوبی کشمیر کے 10 گائوں میں جنگجومخالف اوپریشن

تلاشی کاروائی کے دوران ڈرون کیمروں کا استعمال - گھر گھر تلاشیوں کے علاوہ کھیت کھلیان بھی کھنگالے جارہے ہیں - اعلیٰ سطحی اجلاس میں جنوبی کشمیر میں نئے سرے سے سیکورٹی گرڈ تشکیل دینے پر غور

یو پی آئی :  سرینگر// //بھاجپاکارکنوں کی ہلاکت کے بعد جنوبی کشمیر کے کولگام ، شوپیاں، اننت ناگ اور پلوامہ اضلاع کے دس گاؤں میں بیک وقت جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا ۔ معلوم ہوا ہے کہ حملہ آوروں کی بڑے پیمانے پر سیکورٹی فورسز نے تلاش شروع کی ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کے اہلکار رہائشی علاقوں کے ساتھ ساتھ کھیت کھلیانوں اور باغات کو بھی کھنگال رہے ہیں۔ قاضی گنڈ میں تین بھاجپا کارکنوں کی ہلاکت کے بعد جنوبی کشمیر میں سیکورٹی کو مستعد رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ نمائندے نے بتایا کہ سرگرم عسکریت پسندوں اور اُن کے بالائی ورکروں کی بڑے پیمانے پر سیکورٹی فورسز نے تلاش شروع کی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شوپیاں ، پلوامہ اور کولگام اضلاع کے دس گاؤں جن میں کھیت کھلیان اور باغات بھی شامل کو سیکورٹی فورسز نے محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیا تاہم اس دوران کسی کی گرفتاری عمل میں لانے کے بارے میں کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کو احکامات صادر کئے گئے ہیں کہ وہ سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز میں شدت لائے۔ ذرائع کے مطابق جنوبی کشمیر کے کولگام اور شوپیاں اضلاع میں سیکورٹی فورسز کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں کو تلاش کرنے کی خاطر سونگھنے والے کتوں اور ڈرون کیمروں کا بھی استعمال کیا جارہا ہے۔سہ پہر کے بعد سیکورٹی فورسز نے اننت ناگ ضلع کے کئی علاقوں کو بھی محاصرے میں لے کر جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔ ادھر آئی جی کشمیر نے نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران اس بات کی تصدیق کی کہ جنوبی کشمیر کے متعدد علاقوں میں سرگرم عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع (باقی صفحہ ۱۱ پر)
کیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ٹیکنیکی اور انسانی وسائل کو بروئے کار لا کر عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا ہے۔ ادھر پولیس ، فوج اور سی آر پی ایف کے اعلیٰ عہدیداروں کے درمیان ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں جنوبی کشمیر کی سیکورٹی صورتحال کا احاط کیا گیا ۔ ذرائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں سیکورٹی کو متحرک کرنے جبکہ بھاجپا کارکنوں کو سیکورٹی فراہم کرنے پر بھی غور وغوض ہوا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر چہ بیشتر بی جے پی ورکروں کو پہلگام کے ہوٹلوں میں رکھا گیا ہے تاہم سیکورٹی ایجنسیاں اب کوئی رسک لینے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور پورے جنوبی کشمیر میں سیکورٹی کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ تلاشی آپریشنز میں شدت لانے کا بھی امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ کے دوران جنوبی کشمیر میں تعینات سیکورٹی فورسز کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے اور رات کے دوران گشت تیز کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ سرگرم عسکریت پسندوں اور اُن کے بالائی ورکروں کو تلاش کرنے کی خاطر تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا جارہا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں