سرحدوں پر طاقت کے استعمال سے اجتناب لازمی ,,

,

,

 جمعہ13نومبر صبح سویرے کنٹرول لائین پر مختلف سیکٹروں میں شلنگ کا سلسلہ شروع ہوا جو دونوں اطراف سے جان لیوا ثابت ہوا ۔ یعنی اس شلنگ نے سرحد کے آر پار انسانی جانیں لیں اور کافی جائیداد کو بھی نقصان پہنچایا ۔ اگرچہ کچھ عرصہ سے کنٹرول لائین پر شلنگ کے اکا دکا واقعات رونما ہوتے رہے لیکن جس طرح جمعہ 13نومبر کو اس سے جانی اور مالی نقصان ہوا ایسا پہلے اس سال نہیں ہوا تھا ۔ کیوں سرحدیں ایک بار پھر آگ اُ گلنے لگی ہیں عام لوگ یہ سمجھنے سے قاصرہیںلیکن نفرتوں کا جب تک دور چلے گا اسطرح کے واقعات رونما ہوتے رہینگے ۔بھارت اور پاکستان دونوں ہمسائیہ ممالک جن کی تہذیب و ثقافت ایک جیسی ، اٹھنا بیٹھنا ایک جیسا اور مشترکہ قدروں کے باوجود دونوں ملک کیوں ایک دوسرے کیخلاف بر سر پیکار ہیںاس کی تہہ تک اگر ہم جائینگے تو پتہ چلے گا اس کی بظاہر کوئی وجہ نہیں پھر بھی نفرتوں کی دیواریں اس قدر اونچی بن گئی ہیں کہ ان کو گرانے کے لئے جرات چاہئے ہمت چاہئے اور سب سے اہم بر سر اقتدار لوگوں میں اس قدر طاقت ہونی چاہئے کہ وہ ووٹ بنک کی پروا نہ کرتے ہوئے دوستانہ تعلقات قایم کرکے نفرت اور عداوت کی دیواروں کو گرادے تب کہیں جاکر اس طرح کے واقعات رونما نہیں ہوسکتے جس طرح جمعہ کو رونما ہوئے ہیں اور جن میں کافی انسانی جانیں تلف ہوئی ہیں ۔ سرحدوں پر شلنگ سے کون لوگ از جان ہوئے ۔وردی والے یا وردی کے بغیر ، سوال یہ نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ کافی مقدار میں انسانی خون زمین پر گرا ۔ انسانی خون گرنا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی تلافی ناممکن ہے اور جس کو کسی بھی صورت میں پورا نہیں کیاجاسکتا ہے ۔جمعہ 13نومبر کو کپوارہ کرنا ہ سیکٹر ، مثرھل اور اوڑی سیکٹروں کے علاوہ پونچھ میں جس طرح سرحد پار سے شلنگ اور فائیرنگ کی گئی اس سے نصف درجن سے زیادہ عام شہری اور تقریباًاتنی ہی تعداد میں فوجی بھی از جاں ہوئے ۔درجنوں زخمی ہوگئے اور جائیداد کا بھی کافی نقصان ہوا ہے ۔ لوگوں نے اس صورتحال کو انتہائی تشویشنا ک قرار دیا اور کہا کہ سرحدوں پر جب گولہ باری ہوتی ہے تو وہ فوجی تنصیبات تک ہی محدود نہیں رہتی ہے بلکہ اس کی زد میں سرحدی بستیاں بھی آتی ہیں جس سے عام لوگ مفت میں مارے جاتے ہیں اور جائیداد کو بھی نقصان پہنچتا ہے ۔ سرحدوں کی جو تصویریں موصول ہوئی ہیں ان میں ایسے چھوٹے چھوٹے بچے دکھائی دے رہے تھے جو خون میں لت پت زار و قطار روتے ہوئے نظر آرہے تھے ۔ ان کے والدین یا دوسرے گھر والے بھی الگ سے پریشان حال صورتحال سے دوچار نظر آرہے تھے ۔ بہت سے کنبے بے گھر ہوگئے ۔ جاڑوں کے ان ایام میں وہ جائیں تو کہاں جائیں ؟اسی طرح فوج کا بھی جانی نقصان ہوا ہے جو نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ انسان تو سب ہی ہیں ۔ اسلئے دونوں حکومتوں کو چاہئے کہ وہ تمام متنازعہ مسایل آپسی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کریں اور طاقت کے استعما ل سے گریز کریں تاکہ دونوں حکومتوں کے درمیان خوشگوار تعلقات قایم ہوسکیں اور نوبت طاقت کے استعمال تک نہ پہنچ سکے ۔

,

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں