بھارت کیخلاف اب چین کا آبی ہتھیار

جنوبی ایشیا میں اگلے چند برسوں میں کیا کچھ ہوگا اس بارے میں ابھی سے اشارے ملنے لگے ہیں۔ لداخ میں چینی اور بھارتی فوج کے درمیاں حالیہ جھڑپیں جو ہلاکت خیز ثابت ہوئی ہیں کے بعد چین اب اس جگہ سے پیچھے ہٹنے کو تیار ہی نہیں ہے جس پر اس نے قبضہ کیا ہے ۔گذشتہ دنوں بھارت اور چین کے فوجی افسروں کے درمیان اس معاملے پر آٹھویں راونڈ کی بات چیت بھی ہوئی لیکن وہ بھی ناکام ثابت ہوئی کیونکہ چین اپنے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتا ہے اگرچہ بھارت کی بری فوج کے سربراہ جنرل نروانے نے ایک بیان میں امید ظاہر کی تھی کہ لداخ کے معاملے پر چین اور بھارت کے درمیان بات چیت کی کامیابی کے امکانات ہیں لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ہے کیونکہ اس بات چیت کے دوران بھی چین نے اپنی فوج کے پیچھے ہٹنے کے سوال پر انتہائی ڈھٹائی سے کہہ دیا کہ چینی فوج اس وقت جس جگہ ہے وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی اس طرح بات چیت کا آٹھوان دور بھی کامیاب ثابت نہیں ہوسکا ۔ اس دوران یہ خبر آئی کہ چین اب بھارت کی جانب بہنے والے دریائوں کا پانی روکنے یا بہ الفاظ دیگر ان کا رخ موڑنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔اگر اس طرح کی خبروں میں صداقت ہے تو اس سے جنوبی ایشیا میں صورتحال انتہائی دھماکہ خیز بن سکتی ہے ۔کیونکہ چین کی طرف سے تبت کے راستے جو دریا بھارت کی جانب بہتے ہیں ان پر متعدد مقامات پر چین سے بجلی پروجیکٹ وغیرہ قایم کئے ہیں اس طرح ان دریاوں کا وہ پانی کافی حد تک کم ہوگیا ہے جو بھارت کی طرف بہتا ہے اب اگر چین واقعی بھارت کی جانب بہنے والے دریاوں کے پانی کا رخ تبدیل کرے گا یا روکے گا ظاہر سی بات ہے جنوبی ایشیا میں صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ثابت ہوسکتی ہے ۔ بھارت کا پہلے ہی پاکستان کے ساتھ آبی تنازعہ چل رہا ہے اور سندھ طاس معاہدے کے باوجود بھی دونوں ملک ایک دوسرے پر شدید نوعیت کے الزامات عاید کررہے ہیں۔ پاکستان کا الزام ہے کہ بھارت نے کشن گنگا ڈیمب کی تعمیر کی جس کے نتیجے میں پاکستان کی طرف بہنے والے جہلم کا پانی کافی حد تک کم ہوگیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان پنچاب میں ہزاروں ایکٹر زمین کے لئے سینچائی ناممکن بن کر رہ گئی ہے اور اس طرح یہ زمین بنجر ہوتی جارہی ہے غرض دونوں ملکوں کے درمیان دوسرے تنازعوں کو چھوڑ کر آبی تنازعہ سرفہرست ہے جس کو حل کرنے کی ضرورت ہے اگر ایسا نہیں کیا گیا تو دونوں ملکوں کے لوگوں کو سنگین مسایل کا سامنا کرنا پڑے گا ۔اب چین بھی بھارت کے خلاف آبی ہتھیار استعمال کرنے لگا ہے ۔ان سب تنازعوں کا بس یہی ایک واحد علاج ہے اور وہ بات چیت ۔افہام و تفہیم کے بغیر کوئی بھی مسلہ حل نہیں ہو سکتا ہے اسلئے بھارت کو چاہئے کہ وہ اس معاملے پرچین اور پاکستان کے ساتھ مذاکرتی عمل شروع کرے تاکہ جنوبی ایشیا میں امن و شانتی اور سکون کا دور شروع ہوسکے اور لوگوں کو لڑائی جھگڑوں سے نجات مل سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں