سیاحتی شعبے کو متحرک کرنے کی ضرورت

 محکمہ سیاحت کا کہنا ہے کہ اس نے یہاں لاک ڈائون میں نرمی کے ساتھ ہی سیاحتی سرگرمیاں شروع کی ہیں اور پرانے سیاحتی مقامات کے علاوہ نئے ٹریکنگ روٹس کوبھی متعارف کیا جارہا ہے ۔کشمیر جو کہ دنیا کا ایک حسین ترین خطہ تصور کیاجاتا ہے میں سیاحت کی کافی گنجایش ہے ۔لیکن بد قسمتی سے یہاں کے حالات اور اوپر سے آفات سماوی نے اس خطے کو کسمپرسی میں دھکیل دیا ہے ۔یہاں سب سے زیادہ اور سب سے پہلے شعبہ سیاحت ہی متاثر ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں کشمیر میں مالی بحران کی سی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے ۔کیونکہ یہاں کے رہنے والے لوگ بلواسطہ یا بلاواسطہ سیاحت سے ہی وابستہ ہیں اور ایک سروے کے مطابق تقریباً اسی فی صد لوگوں کی روزی روٹی کسی نہ کسی طرح سیاحت سے ہی جڑی ہوئی ہے او رحالات کی مار جب بھی پڑتی ہے تو یہ شعبہ بری طرح متاثر ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس سے آبادی کا ایک بڑا حصہ مالی مشکلات میں مبتلا ہونے کے علاوہ بنکوں کا مقروض بن جاتا ہے ۔ اگرچہ آمدن صفر تک گھٹ جاتی ہے لیکن بنک کا قرضہ تو ادا کرنا ہی ہوتا ہے نتیجے کے طور پر وہ شخص جس نے بنک سے قرضہ لیاہوتا ہے کو یہ قرض ادا کرنے کے لئے قیمتی اشیا ء تک گروی رکھنا پڑتی ہیںیا بیچنی پڑتی ہیں۔ گذشتہ ڈیڑھ برس سے یہاں کا ہر شعبہ بری طرح متاثر تھا لیکن اب جبکہ کووڈ پر قابو پانے کےلئے سرکار ایڑی چوٹی کا زور لگارہی ہے ان حالات میں شعبہ سیاحت کو بھی نئے سرے سے متحرک کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سیاحوں کو وادی کی سیاحت کی جانب راغب کیاجاسکے ۔ چنانچہ گذشتہ دنوں محکمہ سیاحت کے افسروں کی ٹیم نے کئی ریاستوں جن میں کولکتہ ، مہاراشٹر ، اور گجرات وغیرہ شامل ہیں کا دورہ کیا اور وہاں ٹریول ایجنٹوں اور ٹور اوپریٹرز کے ساتھ ملاقات کرکے سیاحوں کے گروپ وادی بھیجنے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا اور غالباً یہی وجہ ہے کہ آج کل مختلف سیاحتی مقامات پر دیسی سیاح نظر آرہے ہیں ان میں روز افزوں اضافے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکتا ہے ۔ ان سیاحوں کو گلمرگ میں برفباری کے دوران خوشیاں مناتے ہوئے دیکھا گیا ۔ اسی طرح آج کل مغل باغات میں بھی محدود پیمانے پر ہی سہی لیکن سیاح ضرور نظر آتے ہیں ۔ جو کہ اس ٹریڈ سے وابستہ لوگوں کے لئے اچھی علامت قرار دی جاسکتی ہے ۔ کورونا وائیرس کی وجہ سے نہ صرف کشمیر بلکہ پوری دنیا میں سب سے زیادہ سیاحت متاثر ہوئی ہے اسلئے زیادہ سے زیادہ  سیاحوں کو کشمیر کی سیاحت پر راغب کرنے کے لئے مزید اقدامات کئے جائیں تاکہ یہاں جو اقتصادی بد حالی پائی جاتی ہے وہ کسی حد تک دور ہوسکے گی ۔ کشمیری دستکاری مصنوعات کا کاروبار کرنے والے ، ہوٹل مالکان، ہاوس بوٹ والے ، شکارا مالکان وغیرہ سب کے سب پریشان کن صورتحال سے دوچار ہیںاور ان کو اس پریشانی کے عالم سے نکالنے کے لئے سب کو مل جل کر کام کرنا چاہئے۔خاص طور پر حکومت پر اس حوالے سے کافی ذمہ داریاں عاید ہوتی ہیں جن کو ہر صورت میں پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں