جموںوکشمیر میں ضلعی ترقیاتی کونسل ،پنچایت اور میونسپلٹی کی خالی نشستوں کے ضمنی انتخابات کےلئے حفاظتی پلان مرتب - 49 سی آر پی ایف بٹالینوں کو تعینات کرنے کا فیصلہ

اسلحہ اور گولہ بارود ، انسداد فسادات سازوسامان اور گرم لباس کا انتظام کرنے کی متعلقہ اداروں کوہدایت

جے کے این ایس ؍کے این ایس : سرینگر ؍خصوصی پوزیشن کی منسوخی اورجموں وکشمیرکی تقسیم وتنظیم نوکے بعدہونے والے پہلے انتخابی عمل کیلئے مرکزی وزارت داخلہ نے ایک جامع سیکورٹی پلان کومنظوری دی ہے ،جسکے تحت اُمیدواروں ،انتخابی عمل ،انتخابی مراکز اورالیکشن سرگرمیوں میں حصہ لینے والے لیڈروں وکارکنوں کی حفاظت کویقینی بنانے کیلئے پولیس فورس ’سی آرپی ایف ‘کی49اضافی بٹالینوں کوجموں وکشمیر میں تعینات کیاجائیگا۔اس دوران یہ بھی معلوم ہواکہ جہاں ضرورت محسوس کی جائیگی ،وہاں الیکشن عمل کوپُرامن اورآزدانہ رکھنے کیلئے فوج کاتعاون بھی حاصل کیاجائیگا جبکہ جموں وکشمیر پولیس اورسی آر پی ایف کے مشترکہ دستے تشکیل دیکر حفاظتی انتظامات کوسخت کیاجائیگا۔جے کے این ایس کومعلوم ہواکہ جموں وکشمیر کی حکومت اوریہاں کے الیکشن کمشنر نے اپنی نوعیت کے پہلے ضلع ترقیاتی کونسل انتخابات اوربلدیات وپنچایت کی خالی نشستوں کیلئے ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران امن وامان کی صورتحال کوقابو میں رکھنے نیز انتخابی عمل سے جڑے تمام متعلقین کی حفاظت کویقینی بنانے کیلئے اضافی فورسزفراہم کرنے کیلئے مرکزی وزارت داخلہ سے رجوع کیاتھا،اور وزارت داخلہ نے اسکا فوری نوٹس لیتے ہوئے 28نومبر سے 22دسمبرتک ہونے والے8مراحل پرمحیط انتخابی عمل کے دوران حفاظتی اقدامات کوپختہ رکھنے کیلئے نیم فوجی دستہ سی آر پی ایف کی 49 اضافی بٹالینوں کو جموں و کشمیر میں تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔نئی دہلی میں حکام نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے   ( جاری صفحہ نمبر ۱۱پر)
بتایاکہ مختلف ریاستوں میں فی الوقت تعینات سی آرپی ایف کی49بٹالینوں کووہاں سے جموں وکشمیر منتقل کیاجائیگا۔حکام کے مطابق متعلقہ اداروں اورحلقوں سے کہا گیا ہے کہ وہ جموں وکشمیر میں تعینات کی جانے والی سی آرپی ایف کی49بٹالینوں کیلئے مطلوبہ پیمانے پر اسلحہ اور گولہ بارود ، انسداد فسادات کے خصوصی سازوسامان اور موسم سرما کے لباس سمیت انتظامات کریں۔خیال رہے کشمیر وادی میں موسم سرما اور سرد آب و ہوا کے تناظر میں فورسزاہلکاروں کیلئے گرم ملبوسات کاانتظام کرنے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جموں وکشمیر کے الیکشن کمیشن نے بڑے پیمانے پرگزشتہ برس اگست میں آرٹیکل370کومنسوخ کرنے کے بعد پہلی بڑی انتخابی مشق میں 20 ضلعی ترقیاتی کونسلوں (ڈی ڈی سی) اور پنچایت ومیونسپل حلقوں کی خالی نشستوں کے لئے 8مراحل میں انتخابات کرانے کا اعلان کیا ہے،اوراس سلسلے میں 28نومبر کوپہلے مرحلے میں ووٹنگ ہوگی ، جبکہ پولنگ کا آخری مرحلہ 19 دسمبر کو ہوگا اور ووٹوں کی گنتی 22 دسمبر کو ہوگی۔۔غور طلب ہے کہ حکومت نے اکتوبر2020 میں جموں و کشمیر پنچایت راج ایکٹ میں ترمیم کی تھی تاکہ ہر ضلع میں ضلعی ترقیاتی کونسلوں کے قیام کی راہ ہموارکی جاسکے جس میں براہ راست منتخب ممبر ہوں گے ۔خیال رہے ڈی ڈی سی یعنی ضلعی ترقیاتی کونسل اور پنچایت ضمنی انتخابات کا انتخاب بیلٹ کے ذریعے ہوگا ، جبکہ میونسپلٹی کی نشستوں پر ضمنی انتخاب الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے ذریعہ کیا جائے گا۔جموں وکشمیر کی سبھی مین اسٹریم جماعتوں نے اس انتخابی عمل میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔
 اور ان میں سے بیشترجماعتیں پیپلز الائنس برائے گپکار اعلامیہ نامی اتحاد میں شامل ہیں ،اوروہ ملکریہ انتخابات لڑرہی ہیں کے لئے عوامی اتحاد کے بینر تلے لڑرہی ہیں۔ جہاں ڈی ڈی سی انتخابات پارٹی بنیادوں پر ہو رہے ہیں ، وہیںپنچایت ضمنی انتخابات غیرجماعتی بنیادوں پر ہیں۔یادرہے جموں و کشمیر میں کل20ضلع ترقیاتی کونسل معرض وجودمیں آئیں گے اورہرضلعی کونسل کیلئے14ممبران کاانتخاب عمل میں لایاجائیگا ،اوراس طرح سے کل280ڈی ڈی سی نمائندوں کاانتخاب عمل میں لایاجائیگا۔علاوہ ازیں ، جموں و کشمیر میں 12ہزار153 خالی پنچایت نشستوں اور 234 شہری میونسپل وارڈوں کےلئے انتخابات ہو رہے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں