فوجی مہم کے دوران افغانستان کے 39 لوگوں کا قتل - آسٹریلیائی فوج کے جوانوں کیخلاف مجرمانہ معاملہ میں جانچ کا حکم

کینبرا، 19 نومبر (یواین آئی) آسٹریلیائی سلامتی فورس (اے ڈی ایف) نے جمعرات کو بتایا ہے کہ آسٹریلیا کی موجودہ یا پہلے کے سلامتی فورسوں نے 2003 سے لے کر 2016 کے درمیان افغانستان میں فوجی مہم کے دوران افغانستان کے 39 لوگوں کو مبینہ طور سے قتل کیا تھا جس کے سلسلے میں ان کے خلاف مجرمانہ جانچ کی جائے گی، ان کے عہدے واپس لئے جائیں گے اور انہیں ممکنہ الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ملک کے فوجی سربراہ اینگس کیمپبیل کے ذریعہ مبینہ طور سے جنگی جرائم کی سرکاری جانچ رپورٹ میں یہ جانکاری سامنے آئی ہے ۔ دی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق این ایس ڈبلیو کورٹ آف اپیل کے جج پال بریٹن کی چار سال کی جانچ میں 23 واقعات کے ایسے قابل اعتبار ثبوت پائے گئے ہیں جن میں ایک یا ایک سے زیادہ غیرجنگجو یا جن لوگوں کوپکڑ لیا گیا تھا یازخمی کردیا گیا تھا یاپھر انہیں اسپیشل فورسوں کے فوجیوں کے ذریعہ ماردیا گیا تھا۔ دی مارننگ ہیرالڈ نے بتایا کہ رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ ایسے دو واقعات بھی ہوئے جنہیں ‘‘ظالمانہ رویہ’ کے جنگی جرائم کے زمرے میں رکھا جاسکتا ہے ۔ آسٹریلیا کے جنرل کیمبیل نے جمعرات کو یہاں نامہ نگاروں کی کانفرنس میں بتایا کہ ‘‘یہ رپورٹ آسٹریلیائی سلامتی فورس (اے ڈی ایف) کے پیشہ ور معیاروں اور امیدوں کے لئے توہین آمیز اور سنگین دھوکہ دہی کا خلاصہ کرتی ہے ۔ رپورٹ میں افغانستان میں ہمارے سلامتی فورس کے کچھ اراکین پر لگے سنگین الزامات آسٹریلیائی سلامتی فورس کی جانچ میں صحیح پائے گئے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں