اوباما کی کتاب ’دی پرومسڈ لینڈ‘ کے بعض اقتباسات موضوعِ بحث - منموہن سنگھ، سونیا اور راہل گاندھی کا خصوصی تذکرہ ، نریندر مودی کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں

نئی دہلی /19نومبر/ایجنسیز/
امریکہ کے سابق صدر براک اوباما کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’دی پرومسڈ لینڈ‘ کے بعض اقتباسات دہلی کے سیاسی و صحافتی حلقوں میں موضوعِ بحث ہیں۔ براک اوباما کی 17 نومبر کو شائع ہونے والی کتاب میں بھارت کی سیاست اور بھارتی سیاست دانوں بالخصوص سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ، کانگریس صدر سونیا گاندھی اور سابق کانگریس صدر راہول گاندھی کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا گیا ہے وہ ان دنوں میڈیا میں خبروں کی زینت ہیں۔ قابل ذکر یہ کہ انہوں نے اپنی کتاب میں راہول گاندھی کے بارے میں تو لکھا ہے لیکن موجودہ وزیرِ اعظم نریندر مودی کے بارے میں ایک لفظ بھی موجود نہیں۔ براک اوباما کی کتاب ان کی یادداشتوں پر مشتمل ہے جس میں انہوں نے بھارت اور پاکستان سمیت مختلف امور کا ذکر کیا ہے۔ میڈیا میں شائع ہونے والے اوباما کی کتاب کے اقتباسات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اوباما بھارت کے سابق وزیرِ اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے کافی متاثر ہیں۔ جب منموہن سنگھ برسرِاقتدار تھے تو ایک بار اوباما نے ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب منموہن سنگھ بولتے ہیں تو دنیا سنتی ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے 2008 میں ممبئی پر ہونے والے حملوں کا ذکر کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ممبئی حملے کے بعد پاکستان کے خلاف کارروائی کے مطالبات پر انہوںنے بڑے تحمل سے کام لیا تھا۔ لیکن اس کی انہیں سیاسی قیمت چکانی پڑی۔  اوباما کے مطابق منموہن سنگھ کو اندیشہ تھا کہ اگر وہ پاکستان کے خلاف کارروائی کریں گے تو اس سے مسلمانوں کے خلاف ایک ماحول پیدا ہوگا اور (ہندوتوا کی سیاست کرنے والی) بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس کا فائدہ پہنچے گا۔ اوباما نے لکھا ہے کہ من موہن سنگھ جوہری ہتھیاروں سے لیس ہمسایہ ملک پاکستان کے ساتھ جاری مسلسل کشیدگی سے متعلق بھی بہت فکر مند تھے۔اوباما نے منموہن سنگھ کی تعریف کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ایک شریف ٹیکنوکریٹ ہیں جنھوں نے نہ صرف عوام کے جذبات کو عملی شکل دیتے ہوئے ان کا اعتماد حاصل کیا بلکہ ان کے معیارِ زندگی کو بلند کیا اور اس دوران بد عنوان نہ ہونے کے اپنے امیج کو بھی برقرار رکھا۔  براک اوباما نے کانگریس صدر سونیا گاندھی کو ایک 60 سال کی پرکشش خاتون قرار دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ملاقات کے وقت وہ روایتی ساڑھی پہنے ہوئے تھیں۔ ان کی آنکھیں سیاہ تھیں اور ان کا ایک شاہانہ انداز تھا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں