آذربائیجان نے ’نگورنو کاراباخ‘ میں اپنی فتح کا جھنڈا گاڑ دیا - 30 سال کے بعد مقبوضہ علاقوں سے آرمینیائی قبضہ چھڑانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے

سرینگر/ 21نومبر/ مانٹرنگ/ : آذر بائیجان نے آرمینیا سے فتح حاصل کرنے کے بعد نگورنو کاراباخ میں اپنا جھنڈا گاڑ دیا ہے۔ آرمینیا نے جنگ بندی کے معاہدے کے تحت علاقے کا اہم ضلع ’اغدام ‘ آذربائیجان کے حوالے کردیا ہے۔ آرمینیا سے جنگ میں آذربائیجان نے تاریخی فتح حاصل کی ہے اور 30 سال سے اپنے مقبوضہ علاقوں سے آرمینیائی قبضہ چھڑایا ہے۔ گزشتہ دنوں ہونے والی 6 ہفتوں کی جنگ کا اختتام روس اور ترکی کی مدد سے ایک امن معاہدے کے تحت ہوا تھا جس کے مطابق آرمینیائی تسلط سے چھڑائے گئے علاقے آذربائیجان کے پاس رہیں گے جبکہ دیگر نواحی علاقوں سے بھی آرمینیائی فوج اور جنگجوؤں کو نکلنا ہوگا۔ اب اسی معاہدے کے تحت آرمینیا نے ضلع اغدام آذربائیجان کے حوالے کردیا ہے اور آذری فوج نے بھی علاقے میں داخل ہوکر پوزیشنز سنبھال لی ہیں جبکہ ضلع اغدام میں آذری فوج 3 دہائیوں بعد داخل ہوئی ہے۔ امن معاہدے کے تحت آرمینیائی فوج اور انتظامیہ مزید 2 اضلاع کا کنٹرول آذربائیجان کے حوالے کرے گی جن میں سے 25 نومبر کو کلباجار اور یکم دسمبر کو لاچین میں آذری فوج داخل ہوگی۔ دوسری جانب اغدام ضلع کا کنٹرول آذربائیجان کے حوالے کرنے سے قبل افراتفری نظر آئی اور آرمینیائی شہریوں نے خود ساختہ نقل مکانی سے قبل اپنے گھروں کو نذر آتش کیا۔ آرمینیائی شہری گھروں اور کچن کی اہم اشیاء ساتھ لیکر نقل مکانی کرتے نظر آئے جبکہ وہیں ضلع میں آرمینیائی فوج نے سرکاری عمارتوں کو بھی کرین اور دیگر مشینری کی مدد سے گرادیا ہے۔ خیال رہے کہ عالمی سطح پر ’نگورنو کارا باخ‘ آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے تاہم اس پر آرمینیا کے قبائلی گروہ نے آرمینی فوج کے ذریعے قبضہ کررکھا تھا اور اس پر فریقین میں متعدد جنگیں بھی ہوچکی ہیں۔ تنازع پر حالیہ لڑائی ستمبر میں شروع ہوئی تھی اور تقریباً 6 ہفتے تک جاری رہنے والی جنگ میں دونوں جانب کے سیکڑوں افراد ہلا ک ہوئے جب کہ آرمینیا نے اپنے 2317 فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، خونریز جھڑپوں کے بعد بالآخر گذشتہ دنوں روس کی معاونت سے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ ہوگیا ہے، اس امن معاہدے کو آذربائیجان کی فتح قرار دیا جارہا ہے۔ معاہدے کے مطابق آرمینیا کے قبضے سے حالیہ جنگ میں چھڑائے گئے علاقے آذربائیجان کے پاس ہی رہیں گے اور دیگر نواحی علاقوں سے بھی آرمینیائی فوج پیچھے ہٹ جائے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں