اخلاقی امراض انسانی معاشروں کی چولیں ہلا رہے ہیں - علاج بس اسلام کے پاس میسر ہے: صدر جمعیت

    سرینگر / اخلاقی اور روحانی امراض نے کائنات انسانی کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ہر سو بے راہ روی، بدعنوانی ، عریانیت ،فحاشیت اور انسانی حقوق کی پامالی اپنے عروج پر ہے ان سبھی امراض کا علاج صرف اسلام کے دامن رحمت میں ہے ان باتوں کا اظہار جمعیت اہلحدیث کے صدر مولانا غلام محمد بٹ المدنی نے خانیار سرینگر میں مسجد جامع عثمان کا افتتاح اپنے خطاب جمعہ سے کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ ان مراکز کے قیام کا سب سے بڑا مقصد اللہ کے بندوں کو بس اُس کی دہلیز پر لانا ہے۔ توحید و سنت کی ترویج و اشاعت انسانیت کی بے لوث خدمت اور مودت و محبت کے پیام کو عام کرنا ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ اِن مراکز سے امت کی وحدت اور فکر و عمل کی یکسانیت کا پیغام جانا چاہیے نفرتوں اور کدورتوں کا خاتمہ ہم سب کا مطمع نظر ہو۔انہوں نے ملت و معاشرے اور انسانیت کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اپنے کو کامل اصلاحی و اسلامی سانچے میں ڈھال کرہی ہم اپنا اصل داعیانہ کردار ادا کرسکتے ہیں جس کے ہم مکلف ہیں ۔ اُنہوں نے کہا کہ اسلام عدل و انصاف اور رحمت و رافت کا علمبردار دین ہے۔ اور اسلامیانِ عالم اس بات کے پابند ہیں کہ اُن/جاری صفحہ ۱۱ پر
اخلاقی امراض...... کے اخلاق و کردارسے اُن کی اسلامیت صاف و شفاف انداز میں جھلکے اور چھلکے ۔ادھر جامع آرتھ بڈگام میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت کے  شعبہ صحافت کے سربراہ محترم بشارت بشیر نے نبی رحمت ؐ کے کائنات کی ہر مخلوق پر احسانات کا بہ انداز احسن ذِکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ذات اقدس ؐسے ہماری وابستگی کا تقاضا ہے کہ ہم شفقت ، محبت و مودت کے پیکر بن کر نسل انسانی کی بقائ اور اعانت و نصرت کے لئے کام کرتے ہوئے قرآن و سنت کے پیغام کو عام کریں۔ کرونائی ہلاکت خیز یوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے احتیاطی اور حفاظتی اقدامات کرنے کی ترجیحی اپیل کی۔ اُنہوں نے کہا کہ کرونا ابھی مرا نہیں ہرا ہے، اس لئے ہمیں اس سے بچاؤ کے لئے ہر آن کوشاں رہنا چاہیے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں