نٹی پورہ میں پی ڈی پی رہنما کے سیکورٹی گارڈ پر گولیوں کی بوچھاڑ

پولیس اہلکار ہسپتال میں چل بسا - وسیع علاقے میں تلاشی کارروائی

یو پی آئی : سرینگر/نٹی پورہ سرینگر میں مشتبہ جنگجوؤں نے پی ڈی پی لیڈر کی حفاظت پر مامور پولیس کانسٹیبل پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں اُس کی موقع پر ہی موت واقع ہوئی ۔ پولیس ذرائع نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش شروع کی گئی ہے۔ ادھر پی ڈی پی لیڈر نے بتایا کہ دوسری مرتبہ اُن پر حملہ کیا گیا حیرانگی کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ نے اُن کی سیکورٹی واپس لی ہے۔ نٹی پورہ سرینگر میں اُس وقت سنسنی اور خوف ودہشت/ جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کا ماحول پھیل گیا جب پی ڈی پی لیڈر پرویز احمد کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار منظور احمد بیلٹ نمبر 328دودھ لانے کی غرض سے بازار کیلئے نکلا تاہم رہائشی مکان کے گیٹ کے نزدیک ہی اُن پر فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ خون میں لت پت ہوکر گرپڑا ۔ نمائندے نے بتایا کہ زخمی اہلکار کو فوری طورپر بون اینڈ جوائنٹ اسپتال پہنچایا گیا تاہم ڈاکٹروں نے اُسے مردہ قرار دیا۔ حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سی آر پی ایف کے آفیسران جائے موقع پر پہنچے اور آس پاس علاقوں کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی ۔ ذرائع نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے نٹی پورہ کے متصل کئی بستیوں کا کریک ڈاون کیا جس دوران مکینوں کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے گئے۔ پولیس کے ایک سینئر آفیسر نے بتایا کہ حفاظت پر مامور اہلکار پر رہائشی مکان کے مین گیٹ کے نزدیک جنگجوؤں نے فائرنگ کی جس وجہ سے وہ موقع پر ہی از جان ہوا۔ انہوںنے کہاکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے ملوث عسکریت پسندوں کا پتہ لگانے کی خاطر اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ ادھر پی ڈی پی لیڈر پرویز احمد نے بتایاکہ اُن پر یہ اس طرح کا دوسرا حملہ ہے۔ انہوںنے کہاکہ سال 2009میں بھی اُن پر حملہ کیا گیا تاہم اُس وقت بھی وہ با ل بال بچ گئے۔ پی ڈی پی لیڈر نے بتایا کہ میری جان کو شدید خطرات لاحق ہیں تاہم اس کے باوجود بھی انتظامیہ نے بیشتر سیکورٹی اہلکاروں کو ہٹا دیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ انتظامیہ نے کن وجوہات کی بنا پر سیکورٹی میں تخفیف کی یہ سمجھ سے باہر ہے۔ پی ڈی پی لیڈر نے بتایا کہ حال کے دنوں میں بھی پولیس کے اعلیٰ حکام کو سیکورٹی فراہم کرنے کے ضمن میں آگاہی فراہم کی لیکن سیکورٹی دینے کے بجائے جو اہلکار تعینات تھے اُنہیں بھی واپس بلایا گیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں